فیصل آباد (نمائندہ جسارت) عالمی یومِ حجاب پر جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام حجاب کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے ضلعی ناظمہ ڈاکٹر فہمیدہ الیاس کی قیادت میں چنیوٹ بازار چوک میں مظاہرہ کیا گیا، جس میں باپردہ خواتین، طالبات اور بچیوں نے شرکت کی، جنہوں نے حجاب کے حوالے سے پلے کارڈز اور بینر اُٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فہمیدہ الیاس نے کہا کہ آج دنیا بھر کی مسلم خواتین اس امر کا واضح طور پر اعلان کر رہی ہیں کہ حجاب ہماری تہذیب اور پہچان ہے، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ مغربی اقدار و روایات اور مغربی تہذیب و ثقافت مسلط کرے۔ حجاب خواتین کی ترقی کی راہ میں بھی رُکاوٹ نہیں بلکہ انہیں پر اعتماد انداز میں ملکی ترقی و خوشحالی میں کردار کے قابل بناتا ہے، حجاب خواتین پر جبر کی علامت نہیں بلکہ ایک باحیاء رویے کا نام ہے، ہم ملک میں حیاء کے کلچر کو عام کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن فلسطین کی بہادر با حجاب مجاہدات کے نام ہے جو اس مشکل وقت میں بھی مسلمان خواتین کے لیے حیا کا عملی نمونہ بنی ہوئی ہیں، 11 ماہ سے بدترین اسرائیلی مظالم میں زندگی گزارنے پر مجبور اور اسرائیل کے ظلم، سفاکیت اور بدترین انسانی المیے کا شکار ہیں۔ اسرائیل کی دہشت گردی نے فلسطینی مسلمانوں کا ایمان مزید مضبوط کر دیا ہے، وہ بہادری اور قوت ایمانی سے اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کا مقابلہ کر رہی ہیں، ان حالات میں بھی حیا کا دامن تھامے ہوئی ہیں جو مسلمان خواتین کے لیے قابل تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر قرآن پاک کی بے حرمتی اور گستاخانہ خاکے بنانے کو تو گوارا کر لیا جاتا ہے بلکہ در پردہ اس کی سر پرستی کی جاتی ہے لیکن ایک خاتون کو اسکارف پہننے کی آزادی اور اجازت دینے پر تیار نہیں، خواتین کو حراساں، نازیبا زبان استعمال کرنا انتہائی تکلیف دہ ہے، میڈیا کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جائے اور پیش کیے جانے والے ڈراموں کے ذریعے چادر اور چار دیواری کے تحفظ، احترام اور خواتین کے ساتھ عزت و تکریم کے رویوں کو فروغ دیا جائے، آج کے دن غزہ اور پورے فلسطین کی مشکل میں گھری ہوئی مسلمان خواتین بہنوں کے لیے خصوصی دُعائیں کرنے، اسرائیل کا سیاسی و معاشی بائیکاٹ اور ان خواتین کی مالی مدد کرنے کا عملی عہد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ہم او آئی سی کی تنظیم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حجاب پر پابندی کے امتیازی قوانین کو ختم کروانے کے لیے اقدامات کرے۔