امریکا کے صدر جا بائیڈن اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ شب ٹیلی فون پر طویل گفتگو کی۔ گفتگو کے دوران دو طرفہ تعلقات اور اشتراکِ عمل بھی زیرِ بحث رہا اور ایران پر اسرائیل کے متوقع حملے کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔ اسرائیل کے لیڈر نے امریکی صدر کو بتایا کہ ایران پر اسرائیلی فوج کا حملہ بہت ہلاکت خیز ہوسکتا ہے۔
بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران پر اسرائیلی حملہ قطعیت کے ساتھ اور انتہائی موثر ہوگا۔ حملے طے شدہ اہداف پر کیے جائیں گے۔ اسرائیلی لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ایران پر اسرائیلی فوج کا حملہ اُسے حیرت زدہ کردے گا۔
ایران نے یکم اکتوبر کو اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کردی تھی۔ 200 سپر سونک بیلسٹک میزائلوں کے اس حملے میں اسرائیل میں کوئی ہلاکت واقع نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک یہ خدشہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اسرائیلی فوج کسی بھی وقت ایران میں اہم تنصیبات کو نشانہ بناسکتی ہے۔ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی باتیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی قیادت کو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملوں سے خبردار کیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں پورا مشرقِ وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ امریکا نہیں چاہتا کہ ایران میں تیل کی یا ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے۔ لڑائی بڑھنے کی صورت میں کئی ممالک کے ملوث ہو جانے کا خطرہ برقرار ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل حملے میں چونکہ اسرائیل میں کوئی ہلاکت واقع نہیں ہوئی اس لیے لازم ہے کہ احتیاط اور تحمل سے کام لیا جائے اور معاملات کو بہت زیادہ بگاڑنے سے گریز کیا جائے۔
امریکی صدر نے اسرائیل سے یہ ضمانت بھی چاہی تھی کہ ایران پر حملوں کے دوران ایٹمی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا تاہم اسرائیلی قیادت نے ایسی کوئی بھی ضمانت دینے سے صاف انکار کردیا تھا۔
