ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تحریک انصاف پر پابندی کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں پیش

لاہور: پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں پیش کردی گئی۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد مسلم لیگ ن  کی رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ کاردار نے پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان ایک مخصوص سیاسی پارٹی کی ملک بھر میں افرا تفری پھیلانے کی مذموم کوشش کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ پی ٹی آئی نے پر تشدد احتجاج سے ملک بھر میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا۔

قرارداد کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس اہلکاروں کو شدید زخمی کیا جب کہ انتشاور پسند ٹولے نے گاڑی سے روند کو 3رینجرز کے جوانوں اور 2 پولیس کانسٹیبلز کو شہید بھی کیا۔

قرارداد میں مزید لکھا گیا کہ پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے دو بار وفاق پر لشکر کشی اور چڑھائی کی جس میں سرکاری ملازمین اسلحہ سے لیس آئے جب کہ کےپی پولیس نے ٹیئر گیس شیل اور سرکاری مشینری کا استعمال کیا۔ سیاسی جماعت نے آئین اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پھر ایک بار 9 مئی والے حالات پیداکرنے کی مذموم کوشش کی اور عوام کو ورغلا کر ادارے کے خلاف کھڑا کر کے وفاق پر حملے کے لیے اکسایا۔

قرارداد کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کو تحریک انصاف نے ہوا میں اڑایا جب کہ ان شرپسندوں کی وجہ سے ملک کوروزانہ190 ارب روپے کا نقصان ہوا جس سے جی ڈی پی کو 140 ارب ارب روپے کا خمیازہ بھگتا پڑا۔

پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج احتجاج کی وجہ سے کریش ہوئی۔ بیلاروس کا وفد ہو یا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس،  اس فتنہ انگیز پارٹی نے ہر موقع پر پاکستان کو بد نام کرنے کی کوشش کی، ایف ڈی آئی کی راہ میں رخنے ڈالنے کی مذموم کوشش کی۔

قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان اب مزید اس شر انگیزی کا متحمل نہیں ہو سکتا، پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان وفاقی حکومت سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ تحریک انصاف پر فوراً پابندی لگائی جائے تاکہ ملک کو مزید نقصان سے بچایا جاسکے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں