ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بلاول بھٹو پی ٹی آئی کو قومی سلامتی اجلاس میں لانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اچھا ہوگا، خواجہ آصف

پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلاول قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے کی تجویز اور پی ٹی آئی کو اس میں شمولیت پر راضی کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی جانب سے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بلاول بھٹو نے بڑی تعمیری بات کی ہے، ان کی سوچ مثبت ہے مگر دوسری جانب معاملہ مختلف ہے، رات گیارہ بجے تک پی ٹی آئی قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت پر راضی تھی پھر اچانک انہوں نے منع کردیا، یہ جو نعرہ لگاتے ہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں، یہ انہوں نے سچ کرکے دکھا دیا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہمارے لیڈران بھی جیل گئے مگر پاکستان کے ساتھ ہماری وابستگی پر تو کہیں سوالیہ نشان نہیں آیا۔

کیا بلاول پی ٹی آئی اور حکومت کی مفاہمت کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے؟ اس سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ بلاول بھٹو ہمارے حلیف ہیں اور بھرپور طریقے سے ہمیں سپورٹ کررہے ہیں، صدر آصف زرداری ہمیں سپورٹ کررہے ہیں، اگر وہ مفاہمت کے لیے کوشش کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجی طور پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ ہم سے کہتی ہے کہ ہم تو اجلاس میں آنے کے لیے تیار تھے۔ اگر بلاول بھٹو انہیں دوبارہ لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو بہت اچھی بات ہوگی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے آل پارٹیز بلانے کے اعلان اور اس میں شرکت کے بارے میں سوال پر لیگی رہنمانے کہا کہ اگر وہ حکومتی نمائندوں کو بلاتے ہیں اور رابطہ کرتے ہیں تو پھر اس سلسلے میں حکومت غور کرے گی۔

افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوال پر خواجہ آصف وزیردفاع نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہوگی کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مستحکم رہیں، اور ان میں دراڑ نہ آئے، مگر خیبرپختونخوا میں خاص طور سے جو دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں ان کا منبع افغانستان کی سرزمین ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے، ان حالات میں دونوں ممالک کو معاملات کو سدھارنے کے لیے غیرمعمولی کوششیں کرنی ہوں گی۔

اخترمینگل کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان کی روایتی اور غیروایتی لیڈرشپ کو بھی آن بورڈ لیا جانا چاہیے، کیونکہ تمام اختلافات کا حل بالآخر مذاکرات ہی ہوتے ہیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی تو دہشت گرد ہے، مگر جو انسانی حقوق کے ایکٹیوسٹ ہیں ان کے ساتھ گفتگو ضرور ہونی چاہیے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں