ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

غزہ کے محصور بچوں کے لیے امداد لے جانے والے بیڑے ‘گلوبل صمود فلوٹیلا’ کی کشتی پر مبینہ ڈرون حملہ

غزہ کے محصور فلسطینیوں کے لیے امداد لے جانے والے عالمی بیڑے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کی کشتی پر ایک بار پھر مبینہ ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پرتگالی پرچم بردار کشتی کو شمالی افریقا کے ملک تونس کے ساحلی شہر سیدی بوسعید کی بندرگاہ پر مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کشتی میں آگ بھڑک اٹھی تاہم فوری طور پر قابو پا لیا گیا۔ خوش قسمتی سے تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہا۔

فلوٹیلا کولیشن نے تصدیق کی ہے کہ حملہ ان کی مرکزی کشتی پر کیا گیا، جس میں اسٹیرنگ کمیٹی کے ارکان سوار تھے اور اس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی۔ تاہم تونس کی وزارتِ داخلہ نے ڈرون حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ کشتی کے اندرونی حصے سے لگی تھی، کسی بیرونی حملے کا ثبوت نہیں ملا۔

عالمی میڈیا کے مطابق امدادی قافلے میں دنیا بھر سے 300 سے زائد انسانی حقوق کے کارکن اور رضاکار شریک ہیں، جن میں معروف سوئیڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور ہالی وڈ اداکارہ سوسن سارنڈن بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیڑا 31 اگست کو اسپین کے شہر بارسلونا سے روانہ ہوا تھا اور اب تک کی سب سے بڑی اور تیسری سمندری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر 50 سے زائد کشتیاں اس مہم کا حصہ ہیں، جن میں 44 ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔

 یہ موجودہ فلوٹیلا اس سے قبل جولائی میں روانہ ہونے والے “حنظلہ” بیڑے سے الگ ہے، جولائی میں اٹلی سے روانہ ہونے والی امدادی کشتی حنظلہ پر اسرائیلی فوج نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا، تازہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز غزہ کے ساحل سے تقریباً 70 ناٹیکل میل کے فاصلے پر تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں