لاہور: پنجاب حکومت نے واضح کردیا ہے کہ صوبے میں سیلاب متاثرین کی امداد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے نہیں بلکہ صوبائی وسائل سے فراہم کی جائے گی۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ ہی نہیں، انہیں اس پروگرام کے تحت امداد دینا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اپنا ریلیف پیکج تیار کیا ہے اور اس مقصد کے لیے بیرونی امداد کی ضرورت نہیں، سیلاب متاثرین کے لیے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا ریلیف کارڈ بنے گا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حالیہ سیلاب میں مجموعی طور پر 47 لاکھ افراد متاثر ہوئے،جن میں سے 25 لاکھ سے زائد افراد کو بروقت ریسکیو آپریشن کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
صوبي وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ابتدائی سروے مکمل ہوچکا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس پیکج کے تحت سیلاب زدہ کاشتکاروں کو فی ایکڑ 20 ہزار روپے، پکا گھر تباہ ہونے کی صورت میں 10 لاکھ روپے اور کچا مکان گرنے پر 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے، جبکہ جس شخص کا مویشی مر گیا ہے اسے بھی 5 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ شرجیل میمن کو تقاریر کرنے کا شوق ضرور ہے، مگر کراچی اور سندھ کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے، سندھ میں بھاری بیرونی امداد کے باوجود متاثرین مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکے، بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ پنجاب کی کاوشوں کو سراہا ہے، اور وہ بلاول کے بیان کو زیادہ معتبر سمجھتی ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے سیاسی مخالفین کے رویے کو انہوں نے ’’سیلابی سیاست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔