ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سانحہ تیراہ: جماعت اسلامی کا شدید ردعمل، سیکیورٹی اداروں کی سنگین غفلت قرار

پشاور: جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع نے ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں گزشتہ رات ہونے والے المناک سانحے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں، خواتین اور بے گناہ شہریوں کی شہادت سیکیورٹی اداروں کی سنگین غفلت کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر اپنی پوزیشن واضح کریں، سانحے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کو کڑی سزا دی جائے۔

مرکز اسلامی پشاور سے جاری بیان میں عبدالواسع نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے خیبرپختونخوا مسلسل بدامنی اور ملٹری آپریشنوں کی زد میں ہے، جس کے باعث عوام پر ڈالری جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور صوبہ بھر میں بدامنی کا راج قائم ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کے عوام آخر کب تک اپنے پیاروں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟

عبدالواسع نے کہا کہ یہ ظلم و بربریت اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف وفاقی حکومت اس واقعے کو دہشتگردوں سے جوڑ کر شہید ہونے والے معصوم افراد کو دہشتگرد قرار دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت نے جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دوہرا معیار خیبرپختونخوا کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

جماعت اسلامی رہنما نے زور دیا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کرے، شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے اور ان المناک حملوں کے اصل ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ رات ضلع خیبر کی تحصیل تیراہ میں مبینہ طور پر فضائی حملے اور شیلنگ کے نتیجے میں کم از کم 23 بے گناہ افراد شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

 مقامی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی رات کی تاریکی میں کی گئی جس نے پورے علاقے کو لرزا کر رکھ دیا۔ متاثرہ گاؤں میں کہرام مچ گیا اور لوگ اجتماعی جنازوں میں شریک ہوئے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں