بھارتی حکومت نے پدم شری ایوارڈ یافتہ اور اولمپک ہاکی کے لیجنڈ محمد شاہد کے گھر کا ایک حصہ سڑک کی توسیع کے نام پر مسمار کر دیا، جس پر ان کے خاندان کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد شاہد کے معمر والد گھر کو گرتا دیکھ کر عملے سے بار بار ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے رہے کہ کم از کم ایک دن کی مہلت دے دی جائے، مگر کسی نے ان کی فریاد نہ سنی۔
چند روز قبل چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوائی نے کہا تھا کہ ملک میں “قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، بلڈوزر کی نہیں”، لیکن محمد شاہد کے گھر پر بلڈوزر چلنے کے بعد اس بیان پر سوال اٹھ گئے ہیں کہ اگر انصاف بلڈوزر نہیں تو پھر انصاف کیا ہے؟
یہ واقعہ بی جے پی حکومت کے سڑک توسیعی منصوبے کے دوران پیش آیا۔ محمد شاہد کے رشتہ داروں کے مطابق نہ تو انہیں کوئی معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی متبادل رہائش فراہم کی گئی۔ ان کی بھابھی نازنین نے بتایا کہ “ہمارے پاس رہنے کے لیے اب کوئی دوسری جگہ نہیں بچی۔”
کزن مشتاق کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب خاندان شادی کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دیگر علاقوں میں سڑک کی چوڑائی 21 میٹر رکھی گئی، لیکن ان کے محلے میں اسے غیر معمولی طور پر 25 میٹر تک بڑھا دیا گیا، جس سے ان کا گھر سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ مشتاق نے خبردار کیا کہ اگر ناانصافی کا یہ سلسلہ نہ رکا تو خاندان سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔