راولپنڈی: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے بڑی انٹیلیجنس کارروائی کے دوران بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جو نوجوان جوڑوں کو جھوٹے وعدوں کے ذریعے منشیات اسمگلنگ میں استعمال کر رہا تھا۔
ترجمان کے مطابق یہ نیٹ ورک پاکستان سے متحدہ عرب امارات کے لیے ہیروئن کی ترسیل کی کوشش میں مصروف تھا، تاہم خفیہ اطلاعات پر کی گئی کارروائی سے منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
فورس نے کارروائی کے دوران نیٹ ورک کے سرغنہ ندیم خان سمیت 11 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں 4 خواتین اور ایک فارماسسٹ بھی شامل ہیں۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ کم تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر کمزور نوجوان جوڑوں کو بیرون ملک روزگار اور خوشحال زندگی کے جھوٹے خواب دکھا کر ورغلاتا تھا۔
متاثرہ جوڑوں کو دبئی اور ابوظبی میں ملازمتوں کا لالچ دے کر اسمگلنگ کے خطرناک مشن پر روانہ کیا جاتا تھا۔
ترجمان کے مطابق یہ نیٹ ورک ہیروئن کو کیپسولز کی شکل میں تیار کر کے اپنے کارندوں کے پیٹ میں چھپانے کا انتہائی خطرناک طریقہ استعمال کرتا تھا تاکہ ہوائی اڈوں پر اسکینرز سے بچا جا سکے، تاہم اے این ایف کی سخت نگرانی کے باعث نیٹ ورک کے دو مختلف ہوائی اڈوں سے 4 نوجوان جوڑے ہیروئن سے بھرے کیپسولز سمیت گرفتار کر لیے گئے۔
فورس نے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ذریعے بین الاقوامی گروہ کے رابطہ کاروں تک رسائی حاصل کی اور مزید 3 سہولت کاروں کو بھی حراست میں لے لیا۔
تحقیقات کے دوران دیگر مفرور ملزمان کی نشاندہی ہو چکی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ترجمان اے این ایف نے کہا کہ فورس محدود وسائل کے باوجود بین الاقوامی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی سرزمین کو منشیات کے راستے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، اور خلیجی ممالک کو منشیات کی ترسیل کرنے والے ہر گروہ کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔