ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

غزہ میں نسل کشی کا ماحول دوبارہ بنا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے، ترک صدر

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان کاکہناہے کہ اگر غزہ میں دوبارہ نسل کشی جیسے حالات  پیدا کیے گئے تو اس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے،  ترکی امن، استحکام اور انسانی ہمدردی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتا رہے گا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق ترک صدر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے حالیہ فائر بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے غزہ میں امن کی بحالی کے لیے ماضی میں بھی اپنی ذمہ داری نبھائی ہے اور آئندہ بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدے پر مکمل اور ایمانداری سے عمل درآمد کیا جائے،  انقرہ اس پورے عمل میں فعال کردار ادا کرے گا تاکہ امن کی کوششیں کامیاب ہوسکیں۔

ترک صدر کاکہنا تھا کہ ہمارا خطہ، بالخصوص غزہ، پہلے ہی بہت زیادہ خونریزی، ظلم اور آنسو برداشت کر چکا ہے۔ اب وقت ہے کہ امن کو ایک موقع دیا جائے اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی سے گریز کیا جائے، غزہ میں مستقل امن کے دروازے کھل چکے ہیں، اب مزید خون نہیں بہنا چاہیے۔

خیال رہےکہ معاہدے کے تحت حماس 20 اسرائیلی مغویوں کو رہا کرے گی اور 28 لاشیں واپس کرے گی جبکہ اسرائیل 250 عمر قید پانے والے فلسطینی قیدیوں اور 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار 1,700 فلسطینیوں کو آزاد کرے گا۔

واضح  رہے کہ حماس کی جانب سے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے، اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی برقرار رکھتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطینی سیاسی رہنما مروان البرغوثی کی رہائی سے انکار کردیا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی وزراء اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے باعث روزانہ فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں، جس سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں