تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل نہ ہوا اور اسرائیلی مطالبات پورے نہ کیے گئے تو اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر دے گا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ چاہے امن ڈیل برقرار رہے یا ختم ہو جائے، اسرائیل حماس کو ہر صورت غیر مسلح کرے گا اور غزہ کو ڈی ملٹرائزڈ زون میں تبدیل کیا جائے گا، اسرائیل اپنی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد نیتن یاہو کی جانب سے یہ پہلا سخت بیان سامنے آیا ہے جس نے خطے میں نئی کشیدگی کو ہوا دی ہے۔
دوسری جانب حماس کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار نہیں رکھیں گے اور مزاحمت جاری رکھیں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی دباؤ میں آ کر غیر مسلح ہونا فلسطینی عوام کی جدوجہد سے غداری کے مترادف ہوگا۔
ماہرین کے مطابق نیتن یاہو کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں پائیدار امن کی کوششیں ابھی نازک مرحلے میں ہیں اور کسی بھی فریق کی سخت پالیسی خطے کو دوبارہ تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدہ باقاعدہ طور پر نافذ کردیا گیا ہے، اس معاہدے کے تحت حماس کی قید سے 11 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 67 ہزار 211 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہیں۔
غزہ وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث زخمیوں کی تعداد 169,961 تک پہنچ گئی ہے۔