ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کی ایک کوشش کو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق فتنۃ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں نے پولیس ٹریننگ سینٹر پر اچانک حملہ کیا اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم جوانوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک کردیے گئے جب کہ آپریشن میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے بتایا کہ دہشت گردوں نے پولیس ٹریننگ اسکول کے مرکزی دروازے پر بھاری اسلحے سے حملہ کیا اور خودکش گاڑی سے گیٹ توڑنے کی کوشش کی، تاہم مستعد اہلکاروں نے فوراً پوزیشن سنبھالی اور دہشت گردوں کو وہیں روک دیا۔
جوابی کارروائی کے دوران تینوں حملہ آور مارے گئے، جب کہ پولیس نے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے وقت زوردار دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں شہر کے مختلف حصوں تک سنائی دیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے 3 راکٹ فائر کیے تھے، جن سے عمارت کے بعض حصوں کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم سیکورٹی فورسز کی بروقت آمد سے بڑا سانحہ نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق پولیس کمانڈوز، البرق فورس اور بکتر بند گاڑیاں موقع پر پہنچیں، جنہوں نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرکے انہیں پسپا کیا۔ ایس ایس جی کے خصوصی دستے بھی چہکان ایف سی قلعہ سے طلب کر لیے گئے تاکہ کلیئرنس آپریشن میں مدد فراہم کی جا سکے۔
پولیس حکام کے مطابق تمام اہلکار مکمل ہم آہنگی سے کارروائی میں مصروف رہے اور چند گھنٹوں میں سینٹر کو محفوظ قرار دے دیا گیا۔