اسلام آباد ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کو مارنے کے مبینہ واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واقعے کی تصدیق ہوگئی تو اسلام آباد کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
آوارہ کتوں کے قتل کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن اسلام آباد سے وضاحت طلب کرلی۔
سماعت میں ایک عینی شاہد خاتون نے عدالت کو بتایا کہ 9 اکتوبر کو انہوں نے سی ڈی اے آفس کے قریب ایک گاڑی میں سیکڑوں مردہ کتے دیکھے۔
عدالت نے انتظامیہ سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ اگر واقعی کتوں کو مارا گیا ہے تو ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔