ریاض: خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تجویز پر ممتاز عالمِ دین شیخ صالح بن فوزان الفوزان کو مملکتِ سعودی عرب کا مفتیِ اعظم مقرر کرنے کا شاہی فرمان جاری کردیا۔
عالمی میڈیا کے مطابق شاہی حکم نامے کے تحت شیخ صالح الفوزان کو سعودی عرب کی سینیئر علما کونسل کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا ہے جبکہ انہیں وزیر کے مساوی درجہ و اختیارات تفویض کیے گئے ہیں، یہ تقرری مملکت میں مذہبی قیادت کے ایک نئے باب کے آغاز کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
شیخ صالح الفوزان کا شمار سعودی عرب کے ممتاز فقہا، محدثین اور علمائے کرام میں ہوتا ہے، وہ کئی دہائیوں تک سعودی شریعت بورڈ، مجلسِ کبار العلماء اور اسلامی فقہ اکیڈمی میں خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ فقہ، عقیدہ، اور اسلامی قانون کے حوالے سے درجنوں علمی و تحقیقی کتب کے مصنف ہیں، جبکہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پروگراموں کے ذریعے عوامی سطح پر مذہبی رہنمائی کا سلسلہ بھی جاری رکھتے آئے ہیں۔
شیخ صالح الفوزان کی علمی زندگی کا آغاز قاسم ریجن سے ہوا، جہاں انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی بعد ازاں انہوں نے ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ انہیں اعتدال، فقہی بصیرت اور سلفی منہج کی مضبوط تعبیر کے باعث سعودی عرب سمیت اسلامی دنیا میں ایک معتبر دینی اتھارٹی کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ شیخ صالح الفوزان کو یہ منصب سابق مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کے انتقال کے بعد دیا گیا ہے۔ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ تقریباً تین دہائیوں تک سعودی عرب کے مفتیِ اعظم کے عہدے پر فائز رہے اور مملکت کی مذہبی و فقہی رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے دور میں سعودی فقہی نظام میں کئی اہم اصلاحات اور دینی اداروں کے استحکام کے اقدامات کیے گئے۔