اسلام آباد:۔ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور کل جمعرات کو استنبول میں ہوگا، جس میں پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح وفد شرکت کرے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفد میں اعلیٰ عسکری حکام کے ساتھ دفتر خارجہ کے سینئر افسران بھی شامل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے اس مرحلے میں دوحہ اور استنبول میں ہونے والے سابقہ ادوار کے نتائج پر تفصیلی غور کیا جائے گا، جبکہ پاکستان ایک بار پھر افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے کے معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھائے گا۔
پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے دوران سرحدی دراندازی کی روک تھام اور دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع سیکورٹی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ترکیہ اور قطر اس مذاکراتی عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ کل شروع ہونے والے اس تیسرے دور کا میزبان ترکیہ ہوگا۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان ان مذاکرات کو خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے اہم موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے، تاہم اسلام آباد واضح کر چکا ہے کہ دہشت گردی اور سرحدی خلاف ورزیوں کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔