سندھ حکومت نے صوبے میں پانی کے منصفانہ استعمال، بہتر انتظام اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نیا سندھ واٹر لا متعارف کرانے کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکرٹری آبپاشی ظریف اقبال کھیڑو سے ورلڈ بینک کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر نذیر میمن سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔
ملاقات میں سواٹ (SWAT) منصوبے اور نئے سندھ واٹر قانون کی تیاری سے متعلق پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام کے مطابق محکمہ آبپاشی اور سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی (سیڈا) کے افسران پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو آئندہ ماہ تک قانون کے مسودے کو حتمی شکل دے کر صوبائی وزارتِ آبپاشی کو پیش کرے گی۔
وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ نئے سندھ واٹر لا کو کابینہ اور سندھ اسمبلی سے باقاعدہ منظوری کے بعد نافذ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ قانون صوبے میں پانی کی منصفانہ تقسیم، وسائل کے مؤثر استعمال اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا۔