فیصل آباد : وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ملکی استحکام کے لئے مزیدترامیم کرناپڑیں تو بھی کریں گے۔
فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم نے ملک کو ’استحکام‘ فراہم کیا، انہوں نے کہا کہ ’اگر اس استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اور ترمیم درکار ہوئی تو ہم اسے بھی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ضرور لائیں گے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ جب چاہے ترمیم کر سکتی ہے، اور یہ کام پارلیمنٹ ہی کو کرنا چاہیے، ’پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ ہی نظر آنا چاہیے‘۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے حالیہ استعفوں کو ’سیاسی‘ قرار دیا۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے، جج آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں، وہ کوئی سیاسی جماعت نہیں کہ آئین میں ترمیم ہو تو استعفیٰ دے دیں، انہوں نے کہا کہ آئین ججوں کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عوام کی خواہش کے مطابق چلے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ججوں کی ہر چیز، ان کی تنخواہوں سے لے کر ان کے اختیارات تک، سب کچھ پارلیمنٹ ہی طے کرتی ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ مستعفی ہونے والے سینئر جج ’جانبدار‘ تھے اور ’سیاسی‘ فیصلے دے رہے تھے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ججوں نے ازخود نوٹس کے بے جا استعمال کے ذریعے وزرائے اعظم کو گھر بھیجنے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کی روایت قائم کی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے فیصل آباد میں 23 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی وہاں انتخابات نہیں لڑنا چاہتی جہاں اسے سخت مقابلے کا سامنا ہو۔