بیجنگ: چین نے خبردار کیا ہے کہ چینی عوام اور بین الاقوامی برادری جاپان کو عسکری راہ پر واپس جانے، پرامن ترقی کے وعدوں کی خلاف ورزی کرنے اور جنگ کے بعد قائم بین الاقوامی نظام کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ میں معمول کی نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایسے اقدامات صرف ناکامی پر منتج ہوں گے، دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد جاپان کی حیثیت ایک شکست خوردہ ملک کے طور پر یہ تقاضا کرتا تھا کہ اسے مکمل طور پر غیر مسلح رکھا جائے اور وہ ایسے صنعتی منصوبے نہ کرے جو ملک کو دوبارہ جنگ کے لیے تیار کر سکیں۔
ماؤ نے کہا کہ جاپان نے دعویٰ کیا کہ وہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک بنانے کی خواہاں ہے، مگر درحقیقت وہ موسّع روک تھام میں تعاون مضبوط کر رہا ہے اور ایٹمی شراکت داری کے لیے اپنے تین غیر ایٹمی اصولوں میں ترمیم کی کوشش کر رہا ہے۔
چین کے اس ردعمل کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ جاپان نے اس ہفتے اپنی ملکی طور پر تیار کردہ پیٹریاٹ سطح سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل امریکہ کو پہلی بار برآمد کیے، جس کی اجازت حال ہی میں نرم کی گئی تھی، جیسا کہ کیوڈو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا۔
خیال رہےکہ گزشتہ برسوں میں جاپان نے محدودیاں نرم کرتے ہوئے فوجی طاقت بڑھائی، دفاعی بجٹ 13 سال متواتر بڑھایا، اجتماعی دفاع پر پابندی ہٹائی، ہتھیاروں کی برآمدات پر قدغن نرم کی اور خود ساختہ ہلاکت خیز ہتھیار برآمد کیے۔