ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ غلط ثابت؛ اوگرا نے گیس مزید مہنگی کردی

اسلام آباد: ملک بھر کے گیس صارفین کے لیے حکومت اور ریگولیٹر کی جانب سے ریلیف کے دعوے ایک بار پھر محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے ہیں  اور اوگرا کے نوٹیفکیشن نے واضح کر دیا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں کمی نہیں بلکہ نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ادارے نے چند روز قبل میڈیا کو جاری کردہ اعلامیے میں اوسطاً 8 فیصد کمی کا دعویٰ کرکے عوام کو خوش خبری سنائی تھی، تاہم سرکاری دستاویزات نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ ریلیف کے نام پر دراصل صارفین کے بلوں میں بھاری اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کا اطلاق رواں مالی سال کے دوران ہوگا۔

دستاویزات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے گیس نرخوں میں 118 روپے 47 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ منظور کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت بڑھ کر 1777 روپے 02 پیسے تک پہنچ جائے گی۔ یہ اضافہ مجموعی طور پر 7.14 فیصد بنتا ہے، جو شہری اور صنعتی صارفین کے لیے مزید مالی دباؤ کا سبب بنے گا۔

اسی طرح سوئی ناردرن کے نرخ بھی بڑھا دیے گئے ہیں، جن میں 86 روپے 30 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ شامل ہے۔ اس اضافے کے بعد سوئی ناردرن کی نئی قیمت 1852 روپے 80 پیسے مقرر کر دی گئی ہے، جو 4.89 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

اعدادوشمار سے واضح ہے کہ دونوں کمپنیوں کے صارفین پر بوجھ کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اوگرا نے سابقہ شارٹ فال کی مد میں گیس کمپنیوں کے لیے 60 ارب 88 کروڑ روپے کی ایڈجسٹمنٹ کی بھی اجازت دے دی ہے، جو مستقبل میں مزید مالی اثرات مرتب کرے گی۔

شارٹ فال ایڈجسٹمنٹ کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کو اپنے نقصانات پورے کرنے کے لیے صارفین سے اضافی رقوم وصول کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس سے یہ خدشہ مزید بڑھ گیا ہے کہ آئندہ مہینوں میں گیس بلوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں گیس، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں