ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

برطانیہ میں نوویچوک قتل کیس: پیوٹن ذمہ دار قرار

برطانوی عدالت نے 2018 کے نوویچوک زہر کے مشہور واقعے کی انکوائری رپورٹ عام کر دی، جس میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سابق ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکرپل کے قتل کی منظوری دی تھی۔

(نوویچوک ایک انتہائی زہریلا کیمیائی ایجنٹ ہے جو عصبی نظام کو متاثر کرتا ہے،  یہ بنیادی طور پر روس میں تیار کیا گیا تھا اور اسے فوجی اور خفیہ کارروائیوں میں استعمال کے لیے بنایا گیا۔)

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ زہریلے پرفیوم کے ذریعے قتل کی سازش ایک انتہائی خطرناک کارروائی تھی، جس میں ایک بے گناہ خاتون ڈان سرجیس ہلاک ہوگئیں،  مارچ 2018 میں سرگئی اسکرپل اور ان کی بیٹی یولیا کو سالسبری میں بے ہوش حالت میں پایا گیا تھا جب کہ ان کے گھر کے دروازے پر نوویچوک زہر لگا ہوا تھا،  اس حملے میں سرگئی محفوظ رہے۔

چار ماہ بعد روسی ایجنٹس نے ایک زہریلی پرفیوم کی بوتل سڑک پر پھینکی، جسے ایک راہگیر نے اپنی ساتھی ڈان سرجیس کو دے دیا،  خاتون نے اسے پرفیوم سمجھ کر کپڑوں پر چھڑکا، جس سے وہ فوری طور پر ہلاک ہوگئیں اور ان کا ساتھی شدید بیمار ہوا۔

سپریم کورٹ جج انتھونی ہیوز کے مطابق یہ کارروائی روسی ملٹری انٹیلیجنس جی آر یو کی خصوصی ٹیم نے کی اور اس نوعیت کی کارروائی صرف صدر پیوٹن کی منظوری سے ممکن تھی،  زہریلی بوتل میں موجود نوویچوک ہزاروں لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی تھی۔

برطانوی حکومت نے رپورٹ کے بعد روس کی جی آر یو پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور روسی سفیر کو طلب کیا گیا ہے،  روس نے ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور لندن میں روسی سفارت خانے کی جانب سے فوری ردعمل نہیں آیا۔

یہ دوسری مرتبہ ہے کہ برطانوی تحقیقات نے روسی صدر پیوٹن کو لندن میں سابق روسی ایجنٹوں کے قتل کی کارروائی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ 2016 کی انکوائری میں بھی پیوٹن کو سابق ایجنٹ الیگزینڈر لیتوینینکو کے قتل کا ممکنہ ذمہ دار بتایا گیا تھا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں