ایران میں سنگین معاشی حالات کے باعث درپیش مشکلات کے خلاف گزشتہ روز دارالحکومت تہران میں تاجروں نے احتجاج کیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتوار کے روز ایران میں امریکی ڈالر کی قیمت بڑھ کر تقریباً 14 لاکھ 20 ہزار ایرانی ریال تک جا پہنچی، جبکہ ایک سال قبل یہی شرح قریباً 8 لاکھ 20 ہزار ریال تھی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق شدید سردی اور توانائی کی بچت کے اقدامات کے تحت بدھ کے روز تہران سمیت ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں میں اسکول، بینک اور تجارتی مراکز بند رہیں گے۔
ان حالات پر ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ مظاہرین کے نمائندوں سے بات چیت کی جائے اور ان کے جائز مطالبات سنے جائیں، تاکہ حکومت مسائل کے حل کے لیے ذمہ داری کے ساتھ تمام ممکنہ اقدامات کر سکے۔
دریں اثنا سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی عوام کی قوتِ خرید میں اضافے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار اور معاش سے متعلق عوامی خدشات اور احتجاج کا جواب سنجیدگی اور مکالمے کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔