اسلام آباد:وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کو پہلا باقاعدہ حکم جاری کرتے ہوئے 79 کروڑ 42 لاکھ روپے کی رقم واپس طلب کرنے اور اسے دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے ٹریژری بلز میں لگانے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ رقم کی منتقلی کے بعد اسے نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے ٹریژری بلز میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے۔ عدالت نے رجسٹرار کو اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی تاکہ اس عمل میں کوئی تاخیر نہ ہو۔
نیشنل بینک حکام کے مطابق عدالت کے حکم کے بغیر اس رقم کی دوبارہ سرمایہ کاری ممکن نہیں تھی، عدالت کے مطابق یہ سرمایہ کاری 4 ستمبر 2025 کو ٹریژری بلز میں کی گئی تھی اور 27 نومبر 2025 کو میچیور ہو چکی تھی۔
یہ حکم ایس بی کمپلیکس اونرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا گیا، چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی، اور اس کے بعد معاملہ فروری 2026 کے پہلے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالت کی نگرانی میں سرکاری خزانے کی رقم کی منتقلی اور سرمایہ کاری میں شفافیت اور احتساب کا عمل جاری رہے گا۔