وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے معاونِ خصوصی شفیع جان نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ حکومت پاکستان تحریکِ انصاف سے گھبرا گئی ہے اور اسی خوف کے باعث جناح باغ میں آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تھا جسے چھینا گیا، اور ان کے ساتھ ہونے والے واقعات کے بعد حکومت کس منہ سے مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ مفاہمت کا راستہ مزاحمت سے ہو کر ہی نکلے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی طاقت کے استعمال سے سیاسی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے راستے بند نہیں کیے گئے اور جلسے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم پی ٹی آئی سڑکوں پر احتجاج کرنا چاہتی تھی۔ شازیہ مری کے مطابق سڑک پر چند افراد بھی ہوں تو ہجوم زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ کراچی کے بجائے خیبر پختونخوا پر توجہ دے اور وہاں کے عوامی مسائل حل کرے۔