لاہور : بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل اجاگر کرنے پر انہیں اور ان جیسے دیگر سیاسی رہنماؤں کو غدار قرار دیا گیا، جبکہ ملک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نظر نہیں آتی۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا، پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی اور مختلف سیمینارز میں تجاویز پیش کیں، مگر اس کے جواب میں الزامات اور کردار کشی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے انتخابات، جن پر آج احتجاج ہو رہا ہے، انہی کے نتیجے میں بلوچستان میں ایک نام نہاد قیادت مسلط کی گئی۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں احتجاج یا اختلاف رائے کی قیمت بہت بھاری ہو چکی ہے، جہاں ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی کو طویل قید کی سزا سنائی جاتی ہے، جبکہ سنگین اقدامات کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی۔
اختر مینگل نے کہا کہ جن عناصر کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، انہی کے ساتھ 31 جنوری کو لوگ گلے ملتے اور تصاویر بنواتے دکھائی دیے، جس پر اہلِ پنجاب کو بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے عوام سرکاری وزیروں کے ساتھ نہیں بلکہ انہی افراد کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، کیونکہ وہ انہیں اپنے مسائل کے حل کی امید سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نفرت کی جو دیواریں بلوچستان اور دیگر حصوں کے درمیان کھڑی کی گئی ہیں، وہ کبھی ختم نہیں ہوئیں۔ ان کے مطابق بلوچستان کے مسئلے کا اب ان کے پاس بھی کوئی حل نہیں رہا، کیونکہ ہر آئینی اور جمہوری راستہ آزمانے کے باوجود انہیں مسترد کیا گیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سردار اختر مینگل نے خبردار کیا کہ بلوچستان اب ایک نازک موڑ، یعنی پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ چکا ہے، اور اس صورتحال کی مکمل ذمے داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے خطرناک نعروں کی بازگشت ایک بار پھر سنائی دے سکتی ہے۔