ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کی ذمہ داریاں فوج سے واپس لینے کا فیصلہ

پشاور:خیبرپختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے بعد پاک فوج کو دی گئی سیکیورٹی ذمہ داریاں مرحلہ وار صوبائی پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس اہم فیصلے کا اعلان خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر غور کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے بعد کیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی حکومت کے نمائندوں کے علاوہ سینئر سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں سیکیورٹی، معیشت، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز اور متاثرہ علاقوں کی بحالی سے متعلق تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان، مشیر خزانہ مزمل اسلم اور وزیر قانون آفتاب عالم نے مشترکہ طور پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے پر اختیارات پولیس، سی ٹی ڈی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع جہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری ہیں، وہاں بھی حالات معمول پر آتے ہی سیکیورٹی ذمہ داریاں سول انتظامیہ کے حوالے کر دی جائیں گی۔

مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اجلاس میں صوبے کو درپیش مالی مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے مالی معاملات وزیراعظم کے سامنے دوبارہ تفصیل سے رکھے گئے ہیں، اگر صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کا مکمل اور واجب الادا حصہ مل جائے تو کئی بڑے مالی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ کم وفاقی فنڈز کے باوجود صوبائی حکومت ضم اضلاع میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے، موجودہ مالی وسائل ناکافی ہیں، جس کے پیش نظر آئندہ کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے باعث مارکیٹ بندش سے متاثر ہونے والے علاقوں کے روزگار پر بھی غور کیا گیا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں متبادل روزگار کے مواقع اور مالی نقصانات کے ازالے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ اجلاس میں امن و امان سے متعلق تاریخی نوعیت کے فیصلے کیے گئے ہیں، ملاکنڈ ڈویژن میں پاک فوج کا ذمہ داریاں صوبائی اداروں کے حوالے کرنا خیبرپختونخوا پولیس پر اعتماد کا واضح اظہار ہے، امن کی بحالی صوبائی حکومت، سول انتظامیہ اور عسکری قیادت کی مشترکہ کامیابی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کو اعتماد میں لینے کے لیے اجلاس بلایا جائے گا جبکہ صوبائی ایپکس کمیٹی میں کیے گئے فیصلوں کی نیشنل ایپکس کمیٹی میں بھی توثیق کرائی جائے گی۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں