ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ایرانی ڈرون امریکا کے لیے دردِ سر بن گئے،ناکامی کا اعتراف

واشنگٹن : ایرانی ڈرون امریکا کے لیے دردِ سر بن گئے،امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ’شاہد ڈرونز‘ امریکی ایئر ڈیفنس سسٹم کے لیے بڑا چیلنج ہیں کیوں کہ انہیں مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کیپیٹل ہِل میں ایک بریفنگ کے دوران کانگریس ارکان کو بتایا کہ ایران کے ڈرونز امریکی دفاعی نظام کے لیے غیر معمولی مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

امریکی فضائی دفاعی نظام تمام ایرانی ڈرونز کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور یہ ڈرونز توقع سے زیادہ بڑا مسئلہ ثابت ہو رہے ہیں۔

شاہد ڈرونز عموماً کم بلندی اور کم رفتار سے پرواز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی حکام نے کانگریس ارکان کو واضح کیا کہ ہماری بنیادی ترجیحات ایران کی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا، بحری طاقت کو کمزور کرنا، جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں سے روکنا اور خطے میں مسلح گروہوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے باز رکھنا ہے۔

اس ضمن میں ری پبلکن سینیٹر ٹومی ٹیوبر وِل نے بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت بریفنگ دینے والے حکام نے عندیہ دیا کہ یہ جنگ تین سے پانچ ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔

اس حوالے سے ری پبلکن سینیٹر جوش ہالی نے کہا کہ بریفنگ سے ایسا کوئی واضح ٹائم فریم نظر نہیں آرہا اور صورتحال غیر معینہ مدت کی جنگ کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔

ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز نے استفسار کیا کہ امریکا نے اس جنگ کا فیصلہ کیوں کیا؟ جب کہ ایسا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا کہ امریکایا خطے میں اس کے مفادات کو فوری خطرہ لاحق تھا۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں