ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ایران کی پاسداران انقلاب کے نیوی کمانڈر علی رضا تنگسیری کی شہادت کی تصدیق

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت میں ایران نے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسیری  کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد خطے کی صورتحال مزید حساس رخ اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ ایک حالیہ حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) کے سرکاری ذرائع ابلاغ پلیٹ فارم کے مطابق کمانڈر تنگسیری کو اسرائیلی فضائی کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اس واقعے نے ایران کی عسکری قیادت میں ایک نمایاں خلا پیدا کر دیا ہے۔

ایرانی بیان میں علی رضا تنگسیری کو ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار کمانڈر کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جنہوں نے طویل عرصے تک اہم عسکری ذمہ داریاں نبھائیں اور حالیہ تنازعات میں بھی کلیدی کردار ادا کیا

۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے چند روز قبل دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے ایک کارروائی کے دوران ایرانی بحریہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو نشانہ بنایا ہے۔ اب ایران کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کو مزید تیز کر دیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر عہدیدار کی ہلاکت ایران کے لیے ایک بڑا نقصان ہے اور اس کے ممکنہ اثرات نہ صرف عسکری حکمت عملی بلکہ خطے کے مجموعی امن و استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے بقول اس واقعے کے بعد کسی ممکنہ ردعمل کا امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب عرب ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایران میں حالیہ حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد دو ہزار چھہتر تک پہنچ چکی ہے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کی بھی شامل ہے۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ زخمیوں کی تعداد چھبیس ہزار پانچ سو سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعلقہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور دفاعی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ تمام پیش رفتیں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ خطہ ایک طویل اور پیچیدہ بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں