ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ہائی پروفائل قتل کیس میں تمام ملزمان بری، اُمِ رباب چانڈیو کا فیصلے پر مایوسی کا اظہار

دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے ہائی پروفائل قتل کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے اُمِ رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے قتل کے تمام ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے پیپلز پارٹی کے دو ایم پی ایز سمیت کیس کے دیگر چھ نامزد ملزمان کو بھی باعزت بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا۔

جج حسن علی کلوڑ نے بتایا کہ سردار احمد خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو سمیت کسی بھی ملزم پر جرم ثابت نہیں ہو سکا۔ کیس کی طویل سماعتوں کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا، جس میں تقریباً 450 سماعتیں ہوئیں۔

ام رباب کے دادا بھائی اور والد کی تصاویر اوپر والی تصاویر ہیں جبکہ قاتلوں کی تصویریں نیچے دی گئی ہیں جنھیں عدالت نے بری کر دیا ہے

فیصلے کے موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ سیشن جج دادو کی ہدایت پر ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی، جبکہ عدالت اور اطراف میں 6 ڈی ایس پیز، 33 ایس ایچ اوز اور 700 سے زائد پولیس اہلکار تعینات رہے۔ عدالت کے اندر غیر متعلقہ افراد اور میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد تھی، اور مدعی پرویز چانڈیو اور اُمِ رباب چانڈیو کو خصوصی سکیورٹی فراہم کی گئی۔

یہ مقدمہ 17 جنوری 2018 کو میہڑ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے متعلق ہے، جس میں اُمِ رباب چانڈیو کے دادا کرم اللہ چانڈیو، والد مختیار چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو قتل ہوئے تھے۔ کیس میں بعض ملزمان جیل میں تھے جبکہ کچھ بااثر افراد ضمانت پر تھے۔

عدالتی فیصلے کے بعد اُمِ رباب چانڈیو نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف نہیں ملا اور وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گی۔ ان کے وکیل صلاح الدین چانڈیو نے کہا کہ مقدمے میں شواہد موجود تھے، لہٰذا عدالتی فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

دادو کے اس ہائی پروفائل کیس کے فیصلے نے ایک بار پھر عدالتی نظام اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں