ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ایران کا زیادہ تر افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان کے جوہری مرکز میں محفوظ ہونے کا امکان ہے:آئی اے ای اے

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے بڑے حصے کی موجودگی اب بھی اصفہان کے جوہری مرکز میں متوقع ہے جبکہ دیگر اہم تنصیبات کے معائنے کی ضرورت بھی بدستور برقرار ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کی ایک قابلِ ذکر مقدار اصفہان میں واقع زیرِ زمین سرنگوں میں محفوظ ہو سکتی ہے، جس کی مکمل تصدیق کے لیے مزید تکنیکی جانچ ناگزیر ہے، مجموعی طور پر ایران کے پاس 440 کلو گرام کے قریب 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں سے تقریباً 200 کلو گرام اصفہان کے مقام پر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رافیل گروسی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نطنز اور فردو جیسے دیگر جوہری مراکز تک رسائی اور وہاں معائنہ بھی نہایت اہم ہے، تاکہ مجموعی صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آئی اے ای اے نے اس حوالے سے روس سمیت بعض دیگر ممالک کے ساتھ بھی مشاورت کی ہے کہ آیا ایران کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس عمل کو انتہائی پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے وسیع سفارتی اور تکنیکی ہم آہنگی درکار ہوگی۔

گروسی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایجنسی کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مکمل اور مستند معلومات حاصل کی جائیں، تاکہ عالمی سطح پر پائے جانے والے خدشات کو دور کیا جا سکے اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں