امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد یا سہارا فراہم کرنے والے ممالک کو سنگین معاشی نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ممالک کیخلاف غیر معمولی پیمانے پر معاشی جنگ اور تنہائی کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرے گا، اسے ’’بہت بڑے معاشی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹروتھ سوشل پر جاری بیان کا عکس
تاہم امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ دھمکی پر عمل درآمد کی صورت میں واشنگٹن کن مخصوص اقدامات کا سہارا لے گا اور نہ ہی کسی ملک کا نام لیا۔ ان کے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ان ممالک کو بھی امریکی دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے جو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
واضح رہے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں امریکا بھی شامل رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ خلیجی ممالک بھی اس تنازع کے اثرات سے متاثر ہوئے ہیں۔
جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جس سے عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تجارت شدہ تیل کی مقدار اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔
امریکا اور ایران نے اپریل اور جون میں جنگ بندی کے دو معاہدوں کا اعلان کیا تھا، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانا اور تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے جلد ہی ناکام ہوگئے۔
ادھر متحدہ عرب امارات نے منگل کو ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، کاروباری لین دین اور مالی معاملات غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا اعلان کیا۔یو اے ای کے مطابق ایران سے داغے گئے دو میزائل سمندر میں گرے تھے، تاہم ایران نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا۔
چین ایران سے برآمد ہونے والے 80 فیصد سے زائد تیل کا خریدار ہے۔ مبصرین کے مطابق بیجنگ پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے سے امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
ایران کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم مذاکرات کو کسی صورت ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھتے۔ ٹرمپ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر کنٹرول اور ایرانی جوہری پروگرام پر مزید سخت پابندیوں پر مبنی نیا معاہدہ چاہتے ہیں۔