ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستانیوں پر دبئی میں جائیداد خریدنے کے راستے بند- کراچی میں پراپرٹی قیمت بڑھنے لگی

خلیجی جنگ کے بعد دبئی سے سرمائے کی واپسی بھی مشکل ہوگئی۔

September 1, 2026 · امت خاص, کامرس

دبئی میں ہزاروں پاکستانیوں نے جائیدادیں خریدیں (فائل)

دبئی میں ہزاروں پاکستانیوں نے جائیدادیں خریدیں (فائل)

ایران امریکہ جنگ کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات خراب ہونے کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ پاکستان سے دبئی کی طرف کالے دھن کا اخراج رک گیا ہے، جبکہ پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری واپس آ رہی ہے اور اسے ملک میں جائیداد کے کاروبار میں لگایا جا رہا ہے۔

پراپرٹی اور کرنسی مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق ہزاروں پاکستانیوں نے دبئی میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، خاص طور پر جائیداد کے شعبے میں۔ پاکستان کو دو بار دبئی میں جائیداد کا دوسرا بڑا غیر ملکی سرمایہ کار قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات عام طور پر سمجھی جاتی تھی کہ پاکستان میں پیدا ہونے والا کالا دھن دبئی میں محفوظ پناہ گاہ رکھتا ہے اور وہاں جائیداد کی قیمتوں میں اضافے کا ایک محرک تھا۔

انگریزی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق آل پاکستان بلڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حسن بخشی نے بتاای کہ پاکستان میں ہر ماہ تقریباً 6 کروڑ ڈالر کا غیر قانونی یا کالا دھن بنتا ہے اور اسے دبئی میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، لیکن اب یہ سلسلہ رک چکا ہے۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ صورتحال بالکل بدل چکی ہے، جاری جنگ کی وجہ سے دبئی میں کالا دھن پھنس چکا ہے اور اس کی وصولی مشکل ہو چکی ہے۔

ایک کرنسی ڈیلر کا کہنا تھا کہ دبئی سے زیادہ تر ترسیلاتِ زر اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستانی اپنے مائع اثاثے واپس پاکستان بھیج رہے ہیں۔ جنگ نے سرمایہ کاری اور سیاحت کے لیے دبئی کی کشش کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ دبئی سے سرمائے کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر یہ ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والا غیر قانونی دھن ایک بار پھر جائیداد کے کاروبار کی طرف مائل ہو رہا ہے۔

حسن بخشی نے کہا کہ خلیجی جنگ شروع ہونے کے بعد ڈیفنس میں جائیداد کی قیمتیں 50 سے 60 فیصد تک بڑھ گئیں۔ چونکہ ڈیفنس کی پراپرٹی کا ٹائٹل محفوظ ہے، یعنی اس میں ڈبل فائلنگ یا فراڈ کا خطرہ نہیں ہوتا، اس لیے زیادہ تر سرمایہ اسی علاقے کی طرف جا رہا ہے۔

جنگ سے پہلے نہ صرف کالا دھن دبئی جا رہا تھا بلکہ بہت سی ٹیک کمپنیاں بھی سازگار کاروباری ماحول کی وجہ سے وہاں منتقل ہو چکی تھیں۔ یہ کمپنیاں انٹرنیٹ رابطے کے مسائل اور ٹیکس حکام کی جانب سے ضرورت سے زیادہ مداخلت کی وجہ سے بھی بیرون ملک جا رہی تھیں۔ ہزاروں پاکستانی دبئی کو بطور تیسرا ملک استعمال کر رہے تھے اور بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ساتھ قانونی کاروبار کر رہے تھے۔ اب وہ پھنس چکے ہیں اور جنگ جیسی صورتحال برقرار رہنے کی وجہ سے دبئی سے اپنی سرمایہ کاری واپس نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ جب حالات نارمل ہو جائیں گے تو خلیج سے کروڑوں ڈالر واپس پاکستان آ جائیں گے کیونکہ دبئی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کھو دیا ہے۔

حسن بخشی نے ان اطلاعات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستانی سرمایہ کار دبئی سے اپنی سرمایہ کاری نکالنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن جنگ سے متاثرہ ملک میں جائیداد کی قیمتیں کم ترین سطح پر آ چکی ہیں۔

پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد پاکستان میں قیمتیں بڑھنا شروع ہو چکی ہیں اور کاروبار میں بھی تیزی آئی ہے۔ بہتر لیکویڈیٹی کی وجہ سے خرید و فروخت دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک پراپرٹی ڈیلر کریم داد کا کہنا ہے کہ حکومت تعمیراتی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور جائیداد کی قیمتوں میں یہ بحالی اسی کوشش کا نتیجہ ہے۔ کراچی کے دیگر علاقوں میں جائیداد کی قیمتوں میں 20 سے 25 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں