ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پنجاب میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل نافذ ہونے سے روکنےکی کوششیں شروع

گورنر کو مراسلہ، دستخط نہ کرنے کا مطالبہ

September 2, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

پنجاب اسمبلی سے دو روز قبل منظور ہونے والے انسداد دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 کو قانون کی شکل دینے سے روکنے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ ایڈووکیسی گروپ نے آئینی حوالوں کے ساتھ گورنر کو ایک مراسلہ بھیجا گیا ہے، جس میں بل پر دستخط نہ کرنے اور اسے دوبارہ غور کے لیے اسمبلی کو واپس بھیجنے کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ دستاویز جوڈیشل ایکٹوازم کی جانب سے گورنر کو بھیجی گئی قانونی نمائندگی ہے، جس میں انسداد دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 پر شدید آئینی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق پنجاب اسمبلی نے یہ بل یکم ستمبر 2026 کو اپوزیشن کے مکمل واک آؤٹ کے دوران منظور کیا۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ ایسے اہم آئینی نوعیت کے بل پر اپوزیشن کی غیر موجودگی میں مناسب اور جامع پارلیمانی بحث نہیں ہو سکی۔

قانونی اعتراضات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مجوزہ قانون خفیہ یا ایگزیکٹو کے زیر اثر عدالتی کارروائی کا راستہ کھولتا ہے، جس میں جج، ٹربیونل، گواہوں یا پراسیکیوشن سے متعلق شناخت چھپائی جا سکتی ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ طریقہ کار آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A، 14، 25 اور 175(3) سے متصادم ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے قانونی تحفظ، زندگی و آزادی، منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار، مساوی قانونی تحفظ اور عدلیہ کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔

دستاویز میں ایک اہم قانونی دائرہ اختیار کا اعتراض بھی اٹھایا گیا ہے۔ موقف ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 وفاقی قانون ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 143 کے تحت اگر صوبائی قانون وفاقی قانون سے متصادم ہو تو وفاقی قانون کو فوقیت حاصل ہوگی۔ درخواست گزاروں کے مطابق پنجاب اسمبلی نے اس پہلو پر اپنی قانون سازی کی اہلیت کا کوئی واضح قانونی جواز پیش نہیں کیا۔

درخواست میں سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالتیں بھی عدالتی آزادی، قانونی دائرہ اختیار اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں کی پابند ہیں اور ایگزیکٹو کو عدالتی معاملات پر غیر معمولی اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

دستاویز بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کا بھی حوالہ دیتی ہے، خصوصاً آئی سی سی پی آر کے آرٹیکل 14 کا، جو آزاد، غیر جانب دار اور منصفانہ عدالتی سماعت کی ضمانت دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ججوں کی شناخت چھپا کر چلنے والی نام نہاد “Faceless Courts” کی کارروائیاں منصفانہ ٹرائل کے بنیادی تقاضوں سے متصادم ہو سکتی ہیں۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ بل نہ صرف آئینی اور انسانی حقوق کے مسائل پیدا کرتا ہے بلکہ اس کی منظوری کا پارلیمانی طریقہ کار بھی قابل اعتراض ہے۔ اسی لیے گورنر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 116(2) کے تحت بل پر دستخط کرنے کے بجائے اسے اعتراضات کے ساتھ دوبارہ غور کے لیے پنجاب اسمبلی کو واپس بھیجیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں