اہم سفارتی پیشرفت، ثالث ممالک کے ذریعے تجویز واشنگٹن کو پہنچا دی گئی، نفاذ جلد ممکن ہوگا۔
آبنائے ہرمز اور ایرانی پرچم کا عکاس علامتی منظر
ایران نے ایک اہم سفارتی پیشرفت کے تحت مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے فوجی دباؤ میں کمی لائی جائے تو آبنائے ہرمز کو 7 روز کے اندر دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجویز ثالث ممالک کے ذریعے باضابطہ طور پر واشنگٹن تک پہنچائی گئی ہے، جس میں مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس تجویز کی منظوری ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے دی گئی ہے، جسے تہران کی اعلیٰ ترین سطح کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ثالث ممالک سے اس معاملے پر مزید مشاورت کرے گا۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس تمام پیشرفت کے باوجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کسی بھی قسم کی براہِ راست ملاقات کے امکانات موجود نہیں ہیں اور تہران نے فی الحال اس سے گریز کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک اور امریکی ایم کیو ون ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ یہ کشیدہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس اہم بحری راستے کے گرد فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔