ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

خصوصی حیثیت کے حوالے پر اسپیکر کے خلاف بی جے پی کی تحریکِ عدم اعتماد، کرسی چھوڑنے کا مطالبہ

سری نگر/ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد میں خصوصی حیثیت کے حوالے کی اجازت دینے پر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرادی۔
وقفہ سوالات شروع ہوتے ہی بی جے پی کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا نے کھڑے ہوکر اعتراض کیا اور کہا کہ اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وہ ایوان کی کارروائی کی صدارت نہیں کرسکتے۔
پٹھانیا نے اسپیکر سے کہا، ’’آپ کرسی پر نہیں بیٹھ سکتے۔‘‘اسپیکر نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ قواعدِ ضابطۂ کار و کاروبارِ اسمبلی کے تحت تحریکِ عدم اعتماد کے لیے دی گئی درخواست پر غور کے لیے نوٹس موصول ہونے کے 14 دن بعد ہی اجازت لی جاسکتی ہے۔
اسپیکر نے کہا، ’’آپ تحریک لاسکتے ہیں، میں نے اسے ابھی دیکھا نہیں ہے۔ فرض کرلیتے ہیں کہ یہ جمع کرائی گئی ہے۔ ہمارے قواعد واضح ہیں کہ ایسی تحریک سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے بی جے پی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا، ’’آپ قواعد کو صحیح طرح نہیں پڑھتے۔‘‘
اسپیکر کی جانب سے طریقۂ کار کی وضاحت کے دوران بی جے پی ارکان نے احتجاج جاری رکھا اور ’’اسپیکر صاحب کرسی چھوڑو، اسپیکر صاحب کرسی چھوڑو‘‘ کے نعرے لگائے۔
ایوان میں ہنگامے کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما نے ایک بار پھر کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی بی جے پی کے ایجنڈے کا حصہ ہے، تاہم انہوں نے 1953 سے قبل کی پوزیشن پر کسی بھی بحث کو مسترد کردیا۔
شرما نے کہا، ’’حکومتِ ہند نے 1953 سے قبل کی پوزیشن کو اس وقت مسترد کردیا تھا جب عمر عبداللہ مرکزی وزیر تھے۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ کی جانب سے قائدِ حزبِ اختلاف کو جواب دیے جانے کے دوران بی جے پی کے ارکان اسمبلی ایوان کے ویل میں پہنچ گئے اور کارروائی میں خلل ڈالا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں