ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسمبلی قواعد کا حوالہ، حکومت نے ریزرویشن پر کابینہ کی سفارشات کی تفصیلات بتانے سے انکار کردیا

سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے ریزرویشن سے متعلق کابینہ کی سفارشات اور مرکزی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کی تفصیلات ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا حوالہ دیا ہے۔
ہندواڑہ کے رکن اسمبلی سجاد گنی لون کے سوال کے جواب میں سماجی بہبود کے وزیر نے کہا کہ کابینہ کی سفارشات متعلقہ مجاز اتھارٹی کو پہلے ہی پیش کی جاچکی ہیں، تاہم انہیں ایوان میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔
وزیر نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے طریقۂ کار اور کاروباری امور سے متعلق قواعد کے رول 38، شق (xxi) کے تحت کابینہ کے فیصلوں اور کارروائی سے متعلق خفیہ نوعیت کی معلومات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔
مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان ریزرویشن سے متعلق خط و کتابت کے بارے میں پوچھے گئے سوالات پر بھی حکومت نے یہی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی کارروائی خفیہ ہوتی ہے اور اسے ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔
رول 38 سوالات کی قابلِ قبولیت سے متعلق ہے، جبکہ شق (xxi) کے تحت ایسے معاملات سے متعلق معلومات طلب نہیں کی جاسکتیں جو خفیہ نوعیت کے ہوں، جن میں کابینہ کے فیصلے، کارروائی یا گورنر کو دی گئی ایسی ہدایات و مشورے شامل ہیں جن کے افشا پر آئینی، قانونی یا روایتی پابندیاں عائد ہوں۔
حکومت نے واضح کیا کہ اقتصادی طور پر کمزور طبقات (EWS) کے لیے ریزرویشن کے موجودہ معیار میں نرمی، بشمول مقررہ اثاثہ جاتی شرائط ختم یا تبدیل کرنے کی کوئی تجویز فی الحال زیرِ غور نہیں ہے۔
اس سوال پر کہ آیا 2027 کی مردم شماری کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد آبادی کے تناسب سے مختلف ریزرویشن زمروں، بشمول اوپن میرٹ (OM)، میں نمائندگی فراہم کرنے کا ارادہ ہے، وزیر نے کہا کہ اس معاملے پر قابلِ اطلاق قانونی دفعات کے مطابق غور کیا جائے گا۔
جواب میں کہا گیا کہ مردم شماری 2027 کے اعداد و شمار حکومت کو دستیاب ہونے کے بعد اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں ڈویژن میں 3,84,249 ریزرویشن سرٹیفکیٹ، یعنی 81.7 فیصد جاری کیے گئے ہیں، جبکہ کشمیر ڈویژن میں 86,198 سرٹیفکیٹ، یعنی 18.3 فیصد جاری ہوئے ہیں۔
اسی طرح جموں ڈویژن میں 49,953 سرٹیفکیٹس (81.6 فیصد) مسترد کیے گئے، جبکہ کشمیر ڈویژن میں 11,316 سرٹیفکیٹس (18.4 فیصد) مسترد کیے گئے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں