ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ریاستی حیثیت کی قرارداد پر اسمبلی میں ہنگامہ، اپوزیشن لیڈر کا اسپیکر کو ہٹانے کا مطالبہ


سری نگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کارروائی منگل کو ہنگامہ آرائی کے درمیان شروع ہوئی، جب قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے ایک بار پھر اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے ایوان میں ایک ’’غیر قانونی اور غیر آئینی‘‘ قرارداد منظور ہونے کی اجازت دی۔
کارروائی کے آغاز پر یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ قرارداد پر اٹھائے گئے اعتراضات اور محکمہ قانون کی جانب سے پیش کی گئی آرا کے پیش نظر اسپیکر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔شرما نے کہا کہ حکومت کے اپنے مؤقف، بشمول وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے بیانات، نے بھی ایوان میں قرارداد پیش کرنے کے قانونی جواز اور اختیار کیے گئے طریقہ کار پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قانونی اعتراضات کے باوجود قرارداد کو آگے بڑھانے کی اجازت دینے کی ذمہ داری اسپیکر پر عائد ہوتی ہے، اس لیے انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔
اس معاملے پر اپوزیشن اور حکومتی بنچوں کے درمیان ایک بار پھر شدید بحث و تکرار ہوئی، جس دوران نیشنل کانفرنس کے ارکان نے ’’ووٹ چور‘‘ کے نعرے لگائے۔بی جے پی 2000 کی خودمختاری سے متعلق قرارداد کے حوالوں کو ریاستی حیثیت کی قرارداد میں شامل کرنے کی مخالفت کر رہی ہے، تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کی حمایت کرتی ہے۔ہنگامے کے دوران اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے کہا، ’’میں اپنے اختیارات جانتا ہوں۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں