ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’آپریشن درشٹی‘ فوج کی خدمت، عزم اور حوصلے کی عکاسی کرتا ہے: ایل جی سنہا

سری نگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ ’آپریشن درشٹی‘ محض ایک طبی کیمپ نہیں بلکہ فوج کی خدمت، حوصلے، عزم اور دور دراز و سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بات بدھ کے روز بادامی باغ چھاؤنی سری نگر میں واقع چنار آڈیٹوریم میں ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت میگا موتیا سرجری کیمپ کے دوسرے مرحلے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ایل جی سنہا نے کہا کہ اس گیارہویں میگا سرجری کیمپ میں مریضوں، ڈاکٹروں، طبی ٹیموں اور فوج نے مل کر ایسے لوگوں کو معیاری آنکھوں کی طبی سہولیات فراہم کیں، جن کے لیے جدید علاج تک رسائی حاصل کرنا مشکل تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، فوج کے سربراہ، ڈاکٹروں اور تمام طبی ٹیموں کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے مشکل اور دور دراز علاقوں تک خصوصی طبی سہولیات پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سنہا نے کہا کہ یہ صرف ایک طبی کیمپ تک محدود اقدام نہیں بلکہ انسانی زندگی کی قدر، خدمت، حوصلے اور عزم کی ایک مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت اب تک 446 آنکھوں کے آپریشن کیے جا چکے ہیں، جن میں کپواڑہ کے سرحدی علاقے ٹنگڈار میں کیے گئے آپریشن بھی شامل ہیں، جہاں فوج اور طبی ٹیموں نے مقامی لوگوں کو علاج فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں سڑکوں کی مشکلات کے ساتھ ساتھ گولہ باری کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے، تاہم طبی ٹیموں نے ان چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے ٹنگڈار میں زیرِ زمین آپریشن تھیٹر قائم کرکے سرجریاں انجام دیں۔
ایل جی نے کہا کہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا اور دیگر افسران کی قیادت میں طبی ٹیم نے انتہائی مشکل حالات میں یہ انتظام مکمل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تنگدھار تک ضروری طبی آلات اور سامان فضائی راستے سے پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹنگڈار میں منعقد کیا گیا کیمپ اس مہم کا دسواں کیمپ تھا اور سرحدی علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا تھا۔ آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں نے فوج اور اس کے اہلکاروں کے تعاون سے کیمپ تک پہنچ کر علاج حاصل کیا۔
سنہا نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے بہت سے لوگوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا جب انہیں اس نوعیت کے جدید طبی علاج تک رسائی حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم کے ذریعے زندگیوں میں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے اور علاج کے بعد لوگوں کی بحال ہوتی بینائی اور وقار ’آپریشن درشٹی‘ کی کامیابی کی کہانی بیان کرتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ اس مہم کے تحت اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کی آنکھوں کی اسکریننگ کی جا چکی ہے اور دور دراز علاقوں میں بھی آنکھوں کے معائنے کی سہولیات پہنچائی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم نے فوج اور مقامی آبادی کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط کیا ہے۔ فوج نے نہ صرف طبی علاج فراہم کیا بلکہ مشکل علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ تعاون اور ساتھ کھڑے ہونے کا احساس بھی پیدا کیا۔
سنہا نے کہا کہ بھارتی فوج نے ہمیشہ ملک اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اس کی موجودگی و تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے پائلٹس، فضائیہ کے اہلکاروں، ڈاکٹروں، طبی ٹیموں، معاون عملے اور اس اقدام سے وابستہ تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔
ایل جی نے کہا کہ زیرِ زمین آپریشن تھیٹر میں سرجریاں انجام دینا اور سرحدی علاقوں تک جدید طبی سہولیات پہنچانا اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ دشوار گزار جغرافیہ کو صحت کی سہولیات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’آپریشن درشٹی‘ کا سفر کیمپ کے اختتام کے ساتھ ختم نہیں ہوگا بلکہ مزید آگے بڑھے گا اور دیہات و دور دراز علاقوں تک پہنچے گا، تاکہ معیاری طبی سہولیات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ نے یہ ثابت کیا ہے کہ عزم، خدمت اور اجتماعی کوشش کے ذریعے جدید اور خصوصی طبی سہولیات انتہائی دشوار گزار علاقوں میں رہنے والے لوگوں تک بھی پہنچائی جا سکتی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں