سرینگر/آرمی ہسپتال نئی دہلی کے شعبہ امراضِ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا، اے وی ایس ایم، ایس ایم، وی ایس ایم نے کہا ہے کہ’آپریشن درشٹی‘ محض ایک طبی کیمپ نہیں بلکہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو آنکھوں کی بہتر نگہداشت فراہم کرنے کے لیے جاری ایک مسلسل مشن ہے۔
بادامی باغ کینٹونمنٹ سرینگر کے چنار آڈیٹوریم میں ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت میگا موتیا سرجری کیمپ کے دوسرے مرحلے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈیئر مشرا نے کہا کہ مختلف علاقوں میں منعقد کیے گئے 18 اسکریننگ کیمپوں کے دوران 6 ہزار سے زائد افراد کی آنکھوں کی جانچ کی گئی۔انہوں نے اس اقدام کی حمایت کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’یہ صرف ایک کیمپ نہیں بلکہ ایک مسلسل مشن ہے۔‘‘
بریگیڈیئر مشرا نے کہا کہ اس مہم کے تحت ایسے مریضوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی جن کی بینائی متاثر ہو چکی تھی یا جن میں موتیا کی بیماری انتہائی درجے تک پہنچ گئی تھی، جبکہ گلوکوما کی سرجری کے ضرورت مند مریضوں کو بھی علاج فراہم کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ سرجری کے پہلے مرحلے کا انعقاد چنار کور کے زیرِ زمین آپریشن تھیٹر میں کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں 92 بیس ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں مریضوں کی سرجری کی گئی۔
ان کے مطابق دور دراز علاقوں، جن میں مژھل اور ٹنگڈار بھی شامل ہیں، میں منعقد کیے گئے اسکریننگ کیمپوں کے ذریعے مریضوں کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے سرینگر لایا گیا۔بریگیڈیئر مشرا نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ملک کے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں میں رہنے والے لوگوں تک پہنچ کر انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مہم اب ایک بڑی آنکھوں کی نگہداشت کی مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اب تک اس نوعیت کے 11 کیمپ منعقد کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لکشدیپ اور لہہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح کے کیمپ منعقد کیے گئے ہیں۔
بریگیڈیئر مشرا نے اس مہم میں تعاون پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، لیفٹیننٹ گورنر، آرمی چیف، فضائیہ اور نئی دہلی، سرینگر اور تانگدھر سے تعلق رکھنے والی ٹیموں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کشمیری عوام کی جانب سے ملنے والے اعتماد اور تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی حوصلہ افزائی نے طبی ٹیموں کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے تاکہ یہ مشن آئندہ بھی جاری رکھا جا سکے۔بریگیڈیئر مشرا نے اس مہم کو کامیاب بنانے میں 92 بیس ہسپتال اور اس کے کمانڈنگ آفیسرکے کردار کو بھی سراہا۔