سری نگر/جموں و کشمیر وقف بورڈ نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی تمام مساجد میں خطبہ ٔ جمعہ کو یکساں بنانے کی پہل کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت جمعہ کے خطبوں میں زیرِ بحث آنے والے موضوعات پہلے سے طے کیے جائیں گے، جن کا فیصلہ علمائے دین اور خطبا پر مشتمل ایک کمیٹی کرے گی۔ وقف بورڈ کے مطابق اس طریقۂ کار کو اپنانے والا جموں و کشمیر ملک کا پہلا خطہ ہوگا۔
اتوار کو جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں خطبا ءنے ورچوئل طریقے سے وقف بورڈ کی میٹنگ میں شرکت کی۔ اس موقع پر بورڈ کے ایگزیکٹو مجسٹریٹ اشتیاق محی الدین نے بتایا کہ تقریباً ایک ماہ قبل تمام خطبا کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنی اپنی مساجد میں ایک ہی موضوع پر خطبہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک موضوع کا انتخاب کیا جائے گا اور تمام مساجد میں اسی موضوع کو اجاگر کیا جائے گا۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں سے یہ تجاویز بھی طلب کیں کہ وقف بورڈ سے وابستہ نہ ہونے والی مساجد کو بھی اس نظام کے دائرے میں کس طرح لایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی مساجد کی تعداد خاصی زیادہ ہے اور اس سلسلے میں علمائے دین کی تجاویز اہم ہوں گی۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں جمعہ کے خطبے کے عموماً دو حصے ہوتے ہیں۔ پہلے حصے میں خطیب کسی معاصر یا سماجی مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہیں، جبکہ دوسرے حصے میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے خطبات بیان کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اجتماعی نماز ادا کی جاتی ہے، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔
وقف بورڈ کی چیئرپرسن اور سینئر بی جے پی رہنما سید درخشاں اندرابی نے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خطبے کا تعلق ایمان، معاشرے اور علاقے کے مستقبل سے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطبۂ رسول ﷺ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، تاہم ائمہ اور خطبا سماجی مسائل پر ایک مشترکہ مؤقف کے ساتھ بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات، خواتین سے متعلق مسائل اور سماجی بے راہ روی جیسے موضوعات کو خطبوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ان موضوعات کا فیصلہ علمائے دین پر مشتمل کمیٹی کرے گی اور چیئرپرسن یا وقف بورڈ کے افسران کا اس عمل میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔میٹنگ میں معروف مذہبی اسکالر عبدالرشید داؤدی اور مولانا آر۔ ایچ۔ نورآبادی سمیت دیگر علمائے دین نے بھی شرکت کی۔