ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

دوسروں کی قیمت پر نہیں، سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھتا ہے ہندستان: مودی

عظمیٰ ویب ڈیاک
نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ’’پاور ٹو ایمپاور‘‘کو ترقی کے تئیں ملک کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان دوسروں کی قیمت پر نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے پر یقین رکھتا ہے۔ مودی نے یہاں بلومبرگ نیو اکنامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاور ٹو ایمپاور‘‘کا مطلب اس طاقت سے ہے جو نہ صرف اپنے لیے ہو، بلکہ جو اپنے ساتھ دوسروں کو بھی بااختیار بناتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات، ادائیگی کے نظام اور ٹیکنالوجی جیسی جن چیزوں نے کبھی دنیا کو جوڑا تھا، آج انہی کا استعمال ہتھیار کے طور پر کیا جا رہا ہے، اور انہیں دباؤ و دبدبے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 21ویں صدی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ہے۔ چاہے کورونا کے وقت ویکسین کی ضرورت ہو، ڈیجیٹل ادائیگی کے مضبوط ماڈل کی یا پھر صلاحیتوں کی، ضرورت کے وقت دنیا نے ہندستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، جب بھی دنیا کو ایک مستحکم سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، ہندستان اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے۔ ہم دوسروں کی قیمت پر آگے نہیں بڑھتے، ہم دنیا کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال اعتماد کا ہے – سپلائی چین جاری رہے گی یا نہیں، شراکت دار ملک ساتھ کھڑا رہے گا یا نہیں – اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ہندستان ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں پہلے بھی کئی عالمی شراکت داریاں قائم کی گئیں جن کا مقصد صرف اپنے اپنے مفادات کا تحفظ تھا۔ دوسری طرف، ہندستان نے انٹرنیشنل سولر الائنس، بگ کیٹ الائنس اور کوئلیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر جیسے پلیٹ فارم دیے ہیں جن میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ہندستان جوڑنے اور جڑنے پر زور دیتا ہے۔
مودی نے کہا کہ اس کے باوجود ہندستان جو کچھ بھی کرتا ہے، اس کا کریڈٹ کبھی نہیں چاہتا۔ شاید پہلی بار کسی وزیر اعظم کی طرف سے ’’صفر‘‘کے لیے رائلٹی کے ذکر کی مثال قائم کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ہندستان جو کرتا ہے اس کا کریڈٹ کبھی نہیں چاہتا۔ ہندستان نے صفردیا لیکن کبھی اس کے لیے رائلٹی نہیں مانگتا۔
ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ملک کی معیشت میں آنے والی مضبوطی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 12-13 سال پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے چار فیصد سے بھی زیادہ تھا۔ اب یہ گھٹ کر 0.61 فیصد رہ گیا ہے۔ ملک کے پاس 700 ارب ڈالر سے زیادہ کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور بینکنگ کا نظام کافی مضبوط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ریٹنگ ایجنسیاں ہندستان کی سوورین ریٹنگ اپ گریڈ کر رہی ہیں۔گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی)، دیوالیہ کوڈ اور لیبر کوڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریفارم ایکسپریس آج تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دنیا کے تمام ممالک کو مل کر چلنے، ایک آواز میں بولنے اور مل کر سوچنے کی اپیل کی۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں