نئی دہلی /لوک سبھا میں قائد حز ب اختلاف راہل گاندھی سمیت 10 اپوزیشن لیڈروں نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔ پٹیشن دائر کرنے کے بعد سپریم کورٹ رجسٹری نے پٹیشن میں 14 تکنیکی نقائص کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں کچھ جگہوں پر جواب دہندگان کے ناموں میں غلطیاں، پرائیویٹ پارٹیوں کو جواب دہندگان کے طور پر نامزد کرنے کی وضاحت کا فقدان، پہلے کے فیصلے کی کاپی کا فقدان، راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کے علاوہ نو عرضی گزاروں کی جانب سے وکالت نامے (پاور آف اٹارنی) کی کمی، کھرگے کے شناختی کارڈ کی دھندلی کاپی اور 20 2 روپےکی کورٹ فیس کے کم جمع کئے جانا شامل ہے ۔ ان نقائص کو دور کرنے کا عمل فی الحال جاری ہے۔
اپوزیشن لیڈران بشمول کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، ایس پی چیف اکھلیش یادو، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو، این سی پی (شرد پوار) لیڈر سپریہ سولے، شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر سنجے راوت، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے لیڈر ڈی راجہ، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ایم اے بیبی، اور انڈین یونین مسلم لیگ کے رہنمامحمد بشیر بھی درخواست سے منسلک ہیں۔ اپوزیشن کے اہم مطالبات میں سے ایک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔ یہ مقدمہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر “راہل گاندھی بمقابلہ الیکشن کمیشن آف انڈیا” کے نام سے درج ہے۔
الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کو ہدایت کی جائے کہ وہ تمام فائلیں، معاہدوں، میٹنگز کے منٹس، دائر اعتراضات اور متنازع ایس آئی آر سے متعلق ریکارڈ عدالت میں پیش کرے۔عدالت کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ آیاایس آئی آرکے حوالے سے متنازع فیصلے قانون کے مطابق ہیں۔ووٹر لسٹوں کی تیاری اور نظرثانی سے متعلق آئینی یا قانونی دفعات کی خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد/ اہلکاروں کے خلاف براہ راست کارروائی کی جائے۔ جہاں ضروری ہو، عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کے سیکشن 32 کے تحت بھی سخت کارروائی کی جانی چاہیے (جو انتخابی ڈیوٹی میں غفلت یا عہدے کے غلط استعمال سے متعلق ہے)۔ الیکشن کمیشن کو اس موجودہ پٹیشن اور اس سے جڑے تمام معاملات پر منصفانہ فیصلہ دینے کی درخواست کی ہے۔
الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جائے کہ انٹرنیٹ پر دستیاب آن لائن فارم-6 بالکل وہی ہے جو انتخابی رجسٹریشن رولز 1960 کے تحت تجویز کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں تکنیکی ماہرین اور ملک کے نامور شہریوں پر مشتمل ہو۔
کمیٹی کو ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے عالمی بہترین طریقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs)، ان سے متعلقہ پالیسیوں، قواعد، پروٹوکول اور تکنیکی ڈیزائن کے استعمال کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر کے دوران انتخابی فہرستوں سے نکالے گئے تمام ووٹرز کے نام پولنگ بوتھ کے ذریعے عام کرنے کی ہدایت کی جائے۔ مزید برآں، حذف کرنے کی وجوہات، جنس اور عمر کے لحاظ سے زمرہ جات، اور اہل ووٹروں کو دوبارہ اندراج کرنے کے لیے ایک موثر نظام کو عام کیا جانا چاہیے۔
اس عرضی میں اٹھائے گئے مسائل پر حتمی فیصلہ آنے تک تمام ریاستوں میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر )کے عمل کو فوری طور پر روکنے کا عبوری حکم جاری کیا جانا چاہئے۔ یہ مطالبہ اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔