سری نگر/وزارت داخلہ اور لداخ کے اہم سماجی و سیاسی رہنماؤں کے درمیان اہم مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر اختتام پذیر ہوئے۔ میٹنگ میں آئینی تحفظات اور لداخ کے لیے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی سطح پر منتخب ادارے کے قیام سمیت خطے کے بنیادی مطالبات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم، دونوں فریقوں نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور مذاکرات کا اگلا دور 22 اکتوبر کو منعقد ہونے کا امکان ہے۔
یہ میٹنگ لیہہ اور کرگل اضلاع کی نمائندگی کرنے والی سول سوسائٹی تنظیموں کے دیرینہ مطالبات پر غور کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اس میں لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے نمائندوں نے شرکت کی، جو خطے میں جاری تحریک کی قیادت کرنے والا مشترکہ اتحاد ہے۔ لداخ کے رکن پارلیمان حاجی حنیفہ جان، کرگل ہل ڈیولپمنٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو کونسلر ڈاکٹر محمد جعفر اخون اور وزارت داخلہ کے حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
یہ مذاکرات 9 ستمبر کو نئی دہلی میں دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے بعد منعقد ہوئے، جس میں لداخ کی سطح پر منتخب ادارے کے قیام اور آئین کے آرٹیکل 371 کے تحت تحفظات فراہم کرنے کے معاملے پر مفاہمت ہوئی تھی۔
میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیہہ اپیکس باڈی کے صدر چیرنگ دورجے نے بتایا کہ وزارت داخلہ نے لداخ کے لیے یو ٹی سطح کے ادارے سے متعلق ایک مسودۂ تجویز پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مسودے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور لیہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس جلد ہی اس پر اپنا جواب پیش کریں گے۔ ان کے مطابق اجلاس میں مختلف امور پر بات چیت ہوئی، تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے شریک چیئرمین اصغر علی کربلائی نے کہا کہ وہ مثبت توقعات کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوئے تھے، لیکن نتائج ان کی امیدوں کے مطابق نہیں رہے۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ اجلاسوں میں ٹھوس پیش رفت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل ہیں اور بات چیت جاری رہنی چاہیے۔
اگرچہ اس میٹنگ میں فوری طور پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم دونوں فریقوں نے مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ توقع ہے کہ ذیلی کمیٹی اور سول سوسائٹی کے نمائندے 22 اکتوبر کو نئی دہلی میں دوبارہ ملاقات کریں گے، جہاں مسودہ تجاویز اور پالیسی سے متعلق مخصوص نکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
لیہہ اپیکس باڈی کی نمائندگی چیرنگ دورجے، لاکرک، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک اور لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن کے صدر نے کی۔ جبکہ کرگل ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے سجاد کرگلی، اصغر علی کربلائی اور غلام رسول نقوی اجلاس میں شریک ہوئے۔
میٹنگ میں لداخ کے رکن پارلیمان حاجی حنیفہ جان، سابق رکن پارلیمان تھپستن چھیوانگ، کرگل ہل ڈیولپمنٹ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر محمد جعفر اخون اور لیہ ہل ڈیولپمنٹ کونسل کے سابق چیئرمین تاشی گیلسن نے بھی شرکت کی۔لداخ کے اعلیٰ انتظامی افسران، جن میں چیف سیکریٹری آشیش کنڈرا شامل ہیں، اور وزارت داخلہ کے سینئر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔