ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شہریوں کے لاپتا ہونے پر کسی کو تو جواب دہ ہونا ہوگا، سپریم کورٹ

 اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ شہریوں کے لاپتا ہونے پر کسی کو تو جواب دہ ہونا ہوگا۔

ڈاکٹر مہرین بلوچ کی 2 بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

عدالت عظمیٰ نے لاپتا بچیوں سے متعلق پیش رفت رپورٹ جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور چیف سیکرٹری سندھ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ سے جواب مانگا تھا لیکن کوئی نہیں آیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے۔ بچوں کو تلاش کرنے پر ریاست مکمل ناکام ہورہی ہے۔ اگر شہری لاپتا ہوں گے تو اس کا ذمے دار کون ہوگا؟۔شہریوں کے لاپتا ہونے پر کسی کو تو جواب دہ ہونا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر بچیوں کی بازیابی کی پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 27 جنوری تک ملتوی کردی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں