ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جنرل فیض نے اقبالِ جرم کر لیا، اب ادارہ کارروائی کرے: مریم نواز

عادل شاہزیب کو انٹرویو دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جنرل فیض کا یہ کہنا کہ جو کچھ کیا، آرمی چیف کے حکم کے بغیر ممکن نہیں تھا ان کا اقبالِ جرم ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ جنرل فیض کا یہ بیان غلط کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ وہ محض ایک میجر جنرل تھے اور آرمی چیف کے حکم کے بغیر کچھ بھی کرنا ان کے لئے ممکن نہیں تھا۔

مریم نواز نے جواباً کہا کہ جب میں وہ نے جواب پڑھا جو انہوں نے کامران خان کی ٹوئیٹ کے توسط سے دیا تو میں حیران رہ گئی کیونکہ یہ اعتراف تھا ہر اس الزام کا جو ان پر لگایا گیا تھا۔

انہوں نے کامران خان کی ٹوئیٹ کے ذریعے جو کہا وہ ان الزامات کا انکار نہیں اعتراف تھا کہ وہ سب کچھ ہوا جس کا الزام لگایا جا رہا ہے، بس فرق یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بھی شامل کرنا چاہ رہے ہیں یہ کہہ کر کہ میں اکیلا نہیں تھا۔

مریم کا کہنا تھا کہ جنرل فیض کو یہ سب کرتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا کہ پکڑے تو وہ جائیں گے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انہوں نے خود جا کر کہا کہ مریم نواز اور نواز شریف کو ضمانت نہیں ملنی چاہیے ورنہ ہماری دو سال کی محنت ضائع جائے گی۔

“اب جب کہ انہوں نے اعتراف کر لیا ہے کہ وہ یہ سب کرتے رہے تھے تو امید کرتی ہوں کہ ادارہ اس پر ایکشن لے گا۔”

گذشتہ روز صحافی کامران خان اپنی ایک ٹوئیٹ کے ذریعے جنرل فیض کا پیغام سامنے لائے تھے جس کے مطابق جنرل فیض نے کہا تھا کہ “2017-18 میں صرف میجر جنرل تھا۔ کیا فوجی ڈسپلن میں تنہا میجر جنرل حکومت ختم کرسکتا تھا؟ 2) فوج میں فیصلہ صرف چیف کا ہوتا ہے؛ 3) تمام فیصلے عدالتوں نے کیے”

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں