ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عمان،خفیہ مذاکرات میں حوثیوں کی امریکی اور اسرائیلی جہازوں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی

امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کی پاسداری کر رہے ہیں۔ حوثی نمائندے

September 17, 2026 · اہم خبریں

عمان،خفیہ مذاکرات میں حوثیوں کی امریکی اور اسرائیلی جہازوں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی

عمان،خفیہ مذاکرات میں حوثیوں کی امریکی اور اسرائیلی جہازوں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی

عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکی حکام اور یمن کے حوثی نمائندوں کے درمیان ایک غیر اعلانیہ ملاقات کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بحیرہ احمر کی صورتحال، جنگ بندی اور اہم بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی پر گفتگو کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی سفارت کاروں نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مسقط میں امریکی سفارت خانے میں حوثی نمائندوں سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق عمانی حکومت نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کیا۔

رپورٹس کے مطابق ملاقات میں بحیرہ احمر میں کشیدگی کم رکھنے اور 2025 میں امریکہ اور حوثیوں کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت کو محفوظ رکھنے کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔

روئٹرز سے گفتگو کرنے والے باخبر ذرائع کے مطابق حوثی نمائندوں نے امریکی حکام کو بتایا کہ ان کی جانب سے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کی پاسداری کر رہے ہیں۔

ایک یمنی ذریعے کے مطابق حوثی وفد نے اسرائیلی اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی بھی کرائی، تاہم سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کے حوالے سے مبینہ طور پر مختلف مؤقف اختیار کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق حوثی وفد میں عمان میں مقیم سینئر رہنما محمد عبدالسلام اور سیاسی قیادت کے رکن عبدالملک العجری شامل تھے، جبکہ امریکی وفد کی نمائندگی مسقط میں موجود امریکی سفارت خانے کے حکام نے کی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ملاقات کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔ ترجمان نے تاہم کہا کہ بحیرہ احمر میں آزادانہ جہاز رانی کا تحفظ اور مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کا سدباب واشنگٹن کے اہم مفادات میں شامل ہے۔

یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثی فورسز کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے ساحلی علاقے کے ایک بڑے حصے، تاریخی بندرگاہ مخا اور باب المندب کے قریب واقع جزیرہ پریم پر اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔

اس پیش رفت نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی، باب المندب کی سکیورٹی اور خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں نے واشنگٹن سے رابطہ کرکے امریکہ سے یمن کی جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی واشنگٹن اور حوثیوں کے درمیان براہ راست رابطوں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔

دوسری جانب حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد سعودی عرب نے امریکہ سے فوجی تعاون کی درخواست کی۔ تاہم روئٹرز کے مطابق امریکی حکام نے سعودی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ واشنگٹن یمن کی جنگ میں براہ راست فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم بحری راستے تصور کیے جاتے ہیں، اس لیے اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی بحری تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں