پلوامہ/وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے لداخ اور کرگل کے رہنماؤں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مرکزی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے زبانی وعدوں پر بھروسہ نہ کریں بلکہ کسی بھی یقین دہانی کو تحریری اور دستخط شدہ شکل میں حاصل کریں۔
پلوامہ میں ایک جائزہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ لداخ کے رہنماؤں کو ایک دوست اور بڑے بھائی کی حیثیت سے مشورہ دیں گے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کیے گئے کسی بھی وعدے پر اس وقت تک اعتماد نہ کریں جب تک اسے تحریری شکل میں دے کر دستخط نہ کیے جائیں۔
انہوں نے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق مرکزی حکومت کی یقین دہانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو بھی انتخابات کے بعد ریاستی حیثیت بحال کرنے کا زبانی وعدہ کیا گیا تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ہم بھی ایک زبانی وعدے کے شکار ہوئے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ انتخابات کے فوراً بعد ریاستی حیثیت بحال کردی جائے گی، لیکن تقریباً دو سال گزر چکے ہیں اور وہ وعدہ کہیں نظر نہیں آتا۔‘‘
وزیراعلیٰ نے لداخ اور کرگل کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ مرکزی حکومت سے کسی بھی یقین دہانی کو تحریری طور پر حاصل کریں، اور بہتر ہوگا کہ اس کے لیے حلف نامہ بھی لیا جائے، تاکہ مستقبل میں وعدے سے انحراف کی گنجائش نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ لداخ کے اپنے الگ مسائل ہیں جو جموں و کشمیر کے مسائل سے مختلف ہیں، تاہم سرکاری یقین دہانیوں پر اعتماد کرنے سے پہلے ان کا تحریری ہونا ضروری ہے۔