ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسمبلی اجلاس سے قبل سجاد لون کی ریزرویشن پالیسی پر حکومت کو تنقید

سری نگر/آئندہ قانون ساز اسمبلی اجلاس سے قبل پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے حالیہ جے کے اے ایس اور جموں و کشمیر اکاؤنٹس (گزٹیڈ) افسران کی تقرریوں کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے موجودہ عمل کو کشمیر وادی کے خلاف ’’ریکروٹمنٹ اپارتھائیڈ‘‘ قرار دیا۔سجاد لون نے ایکس پر جاری اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ جے کے اے ایس اور جے اینڈ کے اکاؤنٹس (گزٹیڈ) کے لیے منتخب کیے گئے 55 افسران میں سے صرف 10 کشمیر وادی سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’56 فیصد آبادی کے تناسب کے مقابلے میں کشمیر کے باشندوں کو صرف 18 فیصد ملازمتیں ملی ہیں۔‘‘
سجاد لون نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کو تقرری کے احکامات تقسیم کرنے کے عمل سے خود کو الگ رکھنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق، ’’اتفاق سے تقرری کے احکامات وزیر اعلیٰ صاحب نے دئیے۔ بہتر ہوتا کہ وہ اس عمل سے دور رہتے۔‘‘پیپلز کانفرنس کے صدر نے الزام عائد کیا کہ موجودہ ریزرویشن نظام وادی کشمیر کے خلاف بھرتیوں میں امتیاز کے مترادف ہے۔ انہوں نے اسے کشمیر وادی کے باشندوں کو کمزور اور حاشیے پر دھکیلنے کی حکمت عملی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ کی جانب سے ریزرویشن سے متعلق سفارش بھی صورت حال میں کوئی بڑا فرق پیدا نہیں کرے گی۔ سجاد لون کے مطابق، ’’کشمیر خطے کی 56 فیصد آبادی کے مقابلے میں 18 فیصد بھرتیوں کا یہ تناسب اس صورت میں بھی تبدیل نہیں ہوگا اگر منتخب حکومت کی جانب سے مرکز کو بھیجی گئی فائل منظور ہوجاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ تناسب 19 فیصد تک پہنچے گا، جبکہ آبادی کا تناسب 56 فیصد ہے۔‘‘
سجاد لون نے اعلان کیا کہ وہ مناسب قانون ساز ذرائع کے ذریعے اس معاملے کو اسمبلی میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام سیاسی جماعتیں جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اس مسئلے کی سنگینی کو ایوان میں اجاگر کرنے کے لیے متحد ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ریزرویشن نظام کے حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو کھل کر بیان کیا جانا چاہیے کہ ان کے مطابق موجودہ نظام کشمیر وادی کے باشندوں کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں حاشیے پر دھکیلنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں