برلن : جرمنی کے ڈیزائنر نے ایسی حیرت انگیز شرٹ تیار کی ہے جو کسی عام شرٹ سے بالکل مختلف ہے، جو پہننے والے کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔
جی ہاں !! جرمن ڈیزائنر سائمن ویکرٹ کی تیار کردہ اس خاص شرٹ کا نام ’ڈجیٹل کیموفلاج‘ ہے، یہ کوئی عام فیشن شرٹ نہیں ہے، بلکہ اسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سی سی ٹی وی کیمروں کی نظروں سے بچنے کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔
بظاہر عام سی شرٹ جیسی دکھائی دینے والی اس ڈیزائنر شرٹ کو جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے خلاف احتجاج کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
سائمن ویکر کے مطابق شرٹ پر بنائے گئے مخصوص ڈیزائن اور پیٹرنز اس انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں کہ اے آئی سے چلنے والے کیمروں کے لیے انسانی جسم کی شناخت مشکل ہوجائے۔
ایک عام انسان کی نظر سے یہ ایک سادہ اور روایتی شرٹ دکھائی دیتی ہے، تاہم اس کے ڈیزائن کا مقصد کمپیوٹر وژن سسٹمز کے لیے جسم کی شناخت کے عمل میں خلل پیدا کرنا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی سائمن ویکر اس نوعیت کے تجربات کرچکے ہیں۔ سال 2020 میں انہوں نے گوگل میپس کے ٹریفک سسٹم کو متاثر کرنے کے لیے ایک تجربہ کیا تھا۔
انہوں نے ایک چھوٹی سی ریڑھی میں 99 اسمارٹ فونز رکھے اور اسے برلن کی خالی سڑکوں پر گھمایا۔ اس کے نتیجے میں گوگل میپس پر ان سڑکوں پر بھی ٹریفک جام دکھائی دینے لگا، حالانکہ حقیقت میں وہاں کوئی ٹریفک موجود ہی نہیں تھا۔
اس کے علاوہ ڈیزائنر نے ایک ایسی ڈیوائس بھی تیار کی ہے جسے جیب میں رکھنے کی صورت میں قریبی بلوٹوتھ سگنلز میں خلل پیدا ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
ان تجربات کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتی نگرانی کے نظام کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا بتایا جاتا ہے۔
تاہم سائمن ویکر کی نئی شرٹ نے ایک مختلف پہلو سے بھی توجہ حاصل کی ہے۔ ’نو پینلٹی‘ نامی اس شرٹ کو آن لائن تقریباً 75 ڈالر میں فروخت کیا جارہا ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 21 ہزار روپے بنتے ہیں۔
اس معاملے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ نگرانی سے بچنے کے لیے خصوصی لباس استعمال کرنے کی کوشش کے باوجود جدید اسمارٹ فونز خود بھی مختلف سینسرز سے لیس ہیں۔
بعض ڈیوائسز آنکھوں کی حرکت، نگاہ اور دیگر جسمانی حرکات سے متعلق معلومات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ان صلاحیتوں کا استعمال ڈیوائس، ایپلی کیشن اور صارف کی اجازت پر منحصر ہوتا ہے۔