ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

آصف زرداری کے سیاسی تدبر اور قائدانہ صلاحیتوں کا معترف ہوں، وزیراعلیٰ بلوچستان

 کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ میں شروع سے ہی زرداری صاحب کے سیاسی تدبر اور قائدانہ صلاحیتوں کا معترف ہوں۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میرا پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا ارادہ تھا مگر پھر ہم نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلیے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) تشکیل دی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ باپ پارٹی کے قیام کا مقصد صوبے کے مسائل کا حل بلوچستان میں ہی تلاش کرنا تھا، جب پیپلزپارٹی میں شمولیت پر سوچ بچار کی تو چند دوستوں نے مشورہ دیا کہ صوبے کی خدمت باپ پارٹی میں رہ کر بھی کی جاسکتی ہے، اس لیے پھر فیصلہ مؤخر کیا اور نئی پارٹی سے سیاسی سفر شروع کیا۔

میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ بلوچستان صوبہ آدھا پاکستان ہے، اُس کے باوجود ہمیں ہمارا حق نہیں دیا جاتا، این ایف سی ایوارڈ کا حصہ نہ ملنے کی وجہ سے ہم لوگوں کے مسائل حل نہیں کرسکتے، وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا مگر وہ بھی ابھی تک نہیں ملے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بلوچستان کی غربت اور پسماندگی ختم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے، ان دونوں چیزوں کی بڑی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی اور وفاق کی عدم توجہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آدھے پاکستان کو سکیورٹی دینا ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس پر ہمارے وسائل کے 40 فیصد فنڈز خرچ ہو جاتے ہیں، اگر ہم یہ سیکورٹی برقرار نہ رکھیں تو اسکا اثر دیگر صوبوں پر بھی پڑے گا، سیاسی مخالفت اپنی جگہ لیکن منتخب نمائندے کو حلقے کیلیے ترقیاتی فنڈز ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ پورے بجٹ سیشن میں کوئی مخالفت نظر نہیں آئی، ہم اپنی حدود میں رہتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق اپنا حق مانگ رہے ہیں،ہمیں غلط نظر سے نہ دیکھا جائے ہر صوبہ اپنا حق مانگتا ہے ہم بھی مانگ رہے ہیں۔

عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ اگر ترقیاتی فنڈز میں 300 ارب روپے تک اضافہ کیا جائے تو صوبے اور عوام کی بہتری کے لیے اچھا کام ہوگا، ہمارے صوبے میں سرکاری نوکریاں کم اور صنعتیں بھی نہیں ہیں، لوگ اگر بے روزگار ہوں گے تو وہ غلط راستے پر چل کر دشمن کے آلہ کار بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر پر ایرانی ڈیزل اور پٹرول کے کاروبار پر نرمی برتی جا رہی ہے اور اسمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے جارہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں