ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

والدین کو نظر انداز اور دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کیلیے بُری خبر

(18 اگست 2026): والدین کو نظر انداز کرنے اور پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کی شامت آ گئی بڑا فیصلہ کر لیا گیا۔

پہلی بیوی کی زندگی یا اس کو طلاق دیے بغیر دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین ہوشیار ہو جائیں کہ ان کا یہ قدم ان ہی کے لیے بڑا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایک سے زائد شادیاں روکنے کے لیے حکومتی سطح پر بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ بھارتی ریاست آسام کی حکومت نے کیا ہے، جس کے تحت پہلی بیوی کو قانونی طور پر طلاق دیے بغیر دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی کی جائے گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ جو بھی سرکاری ملازمین اپنی پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرے گا۔

کاٹی جانے والی یہ رقم مذکورہ ملازم کی پہلی بیوی کے اکاؤنٹ میں براہ راست منتقل کی جائے گی۔ تاہم اس کے لیے پہلی بیوی کو حکومت کے پاس درخواست دینا ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر طلاق کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت بھی ہو، تب بھی تنخواہ میں کٹوتی جاری رہے گی۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد یہ ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر پہلی بیوی کو مالی مدد فراہم کی جائے۔

ہمنتا بسوا سرما نے والدین کو نظرانداز کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے 10 فیصد کٹوتی کا بھی اعلان کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں